(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
زندگی کوئی ہموار راستہ نہیں، بلکہ کانٹوں سے بھری وہ راہگزر ہے جس پر صرف وہی چل سکتا ہے جو اپنے زخموں کو اپنی طاقت میں بدلنا جانتا ہو۔ عزت اور وقار انعام میں نہیں ملتے، بلکہ انہیں چھیننا پڑتا ہے، اپنی ہمت، اپنے صبر اور اپنے عمل سے۔ جو شخص ان بلندیوں کو پانا چاہتا ہے، اسے ہر رکاوٹ کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہونا ہوگا، ہر طوفان میں اپنی مشعل تھامے رکھنی ہوگی، اور ہر شکست کے بعد اپنی راکھ سے خود کو دوبارہ جنم دینا ہوگا۔
زندگی کی جنگ میں صرف وہی زندہ رہتا ہے جو گرنے کے بعد اٹھنے کا حوصلہ رکھتا ہو۔ شکست ایک لمحہ ہے، لیکن ہار مان لینا ایک فیصلہ ہے۔ جو شخص اپنی کمزوریوں کو تسلیم کرکے ان پر قابو پانے کی جستجو کرتا ہے، وہی سچ میں جیتا ہے۔ کیونکہ زندگی صرف سانس لینے کا نام نہیں، بلکہ اس جلتی ہوئی مشعل کا نام ہے جو اندھیروں میں بھی راستہ دکھاتی ہے۔
اگر کوئی غلطی کرے، تو اسے اپنی تباہی نہ سمجھے بلکہ ایک نئی تعمیر کا آغاز سمجھے۔ اگر راستہ بند ہو جائے، تو اسے ایک نئے راستے کی تلاش کا اشارہ سمجھے۔ زندگی میں آرام کی طرف جھک جانا دراصل اس آگ کو بجھا دینا ہے جو روح کو زندہ رکھتی ہے۔ جو شخص اپنے زخموں کو سجا کر بیٹھ جاتا ہے، وہ اصل میں اپنی ہی کہانی کا آخری صفحہ لکھ چکا ہوتا ہے۔ مگر جو شخص ہر درد کو ایک نئے آغاز کا استعارہ بنا لے، وہی اپنی تقدیر خود تراشتا ہے۔
زندگی کی یہ جنگ ختم نہیں ہوتی، اور نہ ہی اسے ختم ہونا چاہیے۔ کیونکہ جو لڑنا چھوڑ دیتا ہے، وہ جینا چھوڑ دیتا ہے۔ جو آگے بڑھنے سے ڈرتا ہے، وہ وقت کے گرداب میں کھو جاتا ہے۔ اور جو اپنے اندر کی آگ کو ہمیشہ جلائے رکھتا ہے، وہ اندھیروں میں بھی روشنی کی کرن بن کر امر ہو جاتا ہے۔
