Skip to content
Main Menu
پنجابی دوہڑے
پنجابی غزلیں
اردو قطعات
اردو غزلیں
تحریرات
اردو غزلیں
عجب وہ عکسِ جمالِ سحر میں رہتا ہے
خیال بن کے مری چشمِ تر میں رہتا ہے
دنیا کے اس سرائے سے ہم بے نشاں چلے
باندھے ہوئے کمر سوئے دارِ اماں چلے
"زندگی تلخ سہی دل سے لگائے رکھنا
بندگی، اپنی جبینوں پہ سجائے رکھنا
"زندگی تلخ سہی دل سے لگائے رکھنا
آس کے دیپ اندھیروں میں جلائے رکھنا
جلوہ گر ہے یاد ان کی جب سے میرے سینے سے
خوفِ ہجر نکلا ہے دل کے آبگینے سے
کتنا دشوار ہے اس دور میں سچا ہونا
خود سے لڑنا ہے یہاں، سب کے لیے اچھا ہونا
عبادت کی طرح جس میں بقا ہو
عبادت کی طرح جس میں بقا ہو
کبھی تو دن کی روداد کچھ سناؤ مجھے
کہاں بسر ہوئیں راتیں، یہ تو بتاؤ مجھے
"کہاں سنبھال کے رکھنا مغالطے اپنے
پلٹ کے لائے ہیں ہم ہی تو حادثے اپنے
اگر تم عشق کرتے ہو تو بیعت کیوں نہیں کرتے
اگر تم عشق کرتے ہو تو بیعت کیوں نہیں کرتے
Posts navigation
1
2
…
25
اگلا صفحہ →
Scroll to Top