(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
پاکستانی نظامِ تعلیم کا المیہ
کہیں کمرے میں بند درجنوں طلبہ خاموشی سے استاد کے رٹے رٹائے جملے سن رہے ہیں، اور کہیں ہاتھوں میں ڈگریاں تھامے نوجوان بے روزگاری کے اندھیروں میں راستہ تلاش کر رہے ہیں۔ تعلیم جو کبھی روشنی تھی، آج ایک ایسا بوسیدہ چراغ بن چکی ہے جس میں تیل ختم ہو چکا ہے، اور روشنی کے بجائے دھواں نکل رہا ہے۔
ہمارے ہاں تعلیم کا تصور صرف ڈگری لینے تک محدود ہو چکا ہے۔ بچے کو اسکول بھیجنے کا مقصد علم حاصل کرنا نہیں، بلکہ کسی طرح ایک ایسی سند لینا ہے جو اسے نوکری دلوا سکے۔ استاد کا کام سوچنا سکھانا نہیں، بلکہ نصاب ختم کرانا ہے۔ طالب علم کا مقصد علم کی گہرائیوں میں اترنا نہیں، بلکہ امتحان میں اچھے نمبر لینا ہے۔ نتیجہ یہ کہ ہمارے تعلیمی ادارے کارخانے بن چکے ہیں، جہاں ایک ہی سانچے میں ڈھلے ذہن پیدا کیے جا رہے ہیں، جو تخلیقی نہیں، بلکہ صرف مشینوں کی طرح کام کرنے کے قابل ہوتے ہیں۔
علم وہ ہوتا ہے جو سوال اٹھائے، جو آنکھوں میں تجسس کی چمک پیدا کرے، جو سوچنے کی ہمت دے۔ مگر یہاں سوال اٹھانے والا گستاخ سمجھا جاتا ہے، نئی راہیں تلاش کرنے والا باغی کہلاتا ہے۔ اگر کوئی بچہ کتابوں سے باہر کی دنیا دیکھنا چاہے تو اسے روکا جاتا ہے، اور اگر کوئی نوجوان روایتی کیریئر سے ہٹ کر کچھ کرنا چاہے تو اسے طعنے سننے پڑتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ہمارے پاس بے شمار ڈگری یافتہ نوجوان ہیں، مگر حقیقی ماہرین ناپید ہو چکے ہیں۔ ہمارے پاس ڈاکٹر، انجینئر اور بزنس گریجویٹس تو ہیں، مگر تخلیق کار، سائنسدان، فلسفی، اور حقیقی مفکر نہیں۔
اگر ہم واقعی ترقی چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے تعلیمی نظام کو بدلنا ہوگا۔ ہمیں رٹے سے زیادہ تحقیق پر زور دینا ہوگا، ڈگری سے زیادہ ہنر کو اہمیت دینی ہوگی، اور نمبروں کی دوڑ سے نکل کر حقیقی علم کی تلاش کرنی ہوگی۔ ورنہ ہماری یونیورسٹیاں ہر سال ہزاروں نوجوانوں کو اس امید کے ساتھ باہر نکالتی رہیں گی کہ شاید کوئی معجزہ ہو جائے، مگر وہ معجزہ کبھی نہیں ہوگا—جب تک کہ ہم خود اپنی سوچ کو نہ بدلیں۔
