(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
انسان کی ذات ایک پرانی لائبریری کی مانند ہے—جہاں کسی گرد آلود شیلف میں ایک سوال مدتوں سے رکھا ہے۔ خاموش، غیر متحرک، مگر موجود۔ ہم اس پر نظریں ڈال کر بھی نظرانداز کر دیتے ہیں، جیسے کوئی فراموش شدہ خط، جسے کھولنے کی ہمت نہ ہو، یا شاید ضرورت محسوس نہ ہو۔ مگر وقت، جو سب سے بڑا کاتب ہے، اس پر اپنی مہر خاموشی سے ثبت کرتا رہتا ہے۔
پھر ایک دن، اچانک، کوئی لمحہ آئینہ بن جاتا ہے—کوئی بے ساختہ خیال، کوئی مانوس خوشبو، کوئی اجنبی جملہ، یا کسی آنکھ میں ٹھہری ہوئی پرانی روشنی۔ اور ہم ٹھٹھک کر رک جاتے ہیں۔ وہی سوال، جو برسوں سے تجسس کے بغیر ہمارے ساتھ چل رہا تھا، اچانک روشنی میں آ جاتا ہے۔ تب احساس ہوتا ہے کہ جواب ہمیشہ ہمارے اندر تھا، ہم بس اس اعتراف سے گریزاں رہے۔
لیکن کچھ سوال ایسے ہوتے ہیں، جو اگر سوال ہی رہیں، تو زیادہ خوبصورت لگتے ہیں۔ بعض جوابات کے ہاتھ آ جانے سے سوال کی ساری کشش زائل ہو جاتی ہے، اور کبھی، سوال خود ہی زندگی کے ایک نئے سوال میں ڈھل جاتا ہے—ایسا سوال، جو بظاہر منطقی لگتا ہے، مگر حقیقت میں متروک سِکّے کی طرح اپنی وقعت کھو چکا ہوتا ہے۔ اور متروک سِکّے نہ کسی بازار میں کھپتے ہیں، نہ کسی تجوری میں محفوظ کیے جا سکتے ہیں؛ وہ بس یادوں کے ملبے میں ایک بھولی بسری یاد کی حیثیت سے باقی رہ جاتے ہیں۔
کچھ جوابات دریافت ہو بھی جائیں، تو انہیں ہر حال میں قبول کر لینا ضروری نہیں۔ اگر ایک عمر کی نادیدہ ریاضت کے بعد، کسی نظرِ کرم کے صدقے، خود آشنائی کا در کھل بھی جائے، تو یہ لازمی نہیں کہ وہ دریافت قابلِ عمل ہو۔ کچھ حقیقتیں امتحان نہیں ہوتیں، بلکہ اعتراف کا تقاضا کرتی ہیں—اور اعتراف کے بعد، آگے بڑھ جانا ہی بہترین انتخاب ہوتا ہے۔
کیونکہ کچھ سفر صرف آگہی تک نہیں جاتے، وہ اس سے بہت آگے لے جاتے ہیں۔ اور کبھی، آگے بڑھنے کے لیے، خود کو بھی پیچھے چھوڑنا پڑتا ہے۔
