میرے صوفی

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

رات کے سائے دبے قدموں پھیل رہے تھے، جیسے کوئی رازدار خاموشی کی چادر اوڑھ کر کسی ان دیکھے بھید کو محفوظ رکھنا چاہتا ہو۔ میں صحن میں چاندنی کے بکھرتے قطروں کو دیکھ رہا تھا۔ ہر کرن کسی انجانی حقیقت کا استعارہ لگ رہی تھی، جیسے روشنی بھی ایک پیغام ہو، ایک دعوت ہو کسی نادیدہ سفر کی۔

میرے دل میں سوال تھا—وہی سوال جو ازل سے ہر متلاشی کی روح میں سرسراتا آیا ہے۔ وہی سوال جو انسان کو بے چین رکھتا ہے، اس کے وجود کو جھنجھوڑتا ہے اور اسے راستہ دکھانے کے بجائے مزید بھٹکاتا ہے۔

سچ کیا ہے؟ حقیقت کہاں ہے؟ راستہ کون سا ہے؟

میرے صوفی سامنے بیٹھے تھے۔ خاموش، پر سکون، جیسے کسی گہرے پانی کا کنارہ۔ وہ ایک لمحے کو مجھے دیکھتے رہے، پھر مسکرائے۔ ان کی مسکراہٹ میں کوئی پرانا راز پنہاں تھا، کوئی صدیوں پرانا چراغ جو اپنے شعلے کو چھپا کر رکھتا ہو، مگر بجھنے سے انکاری ہو۔

“یہ سوال تمہیں راستے پر لا سکتا ہے، مگر منزل تک نہیں۔”

میں نے نظریں جھکا لیں۔ دل ایک بے قرار پرندے کی مانند پھڑپھڑا رہا تھا، جیسے کسی پنجرے کی سلاخوں میں نرمی سے چھپے زخم کی کہانی ہو۔

صوفی نے چراغ کے قریب ہاتھ رکھا، ہتھیلی کی اوٹ میں روشنی کو قید کیا، اور دھیرے سے بولے:

“سچ وہ نہیں جو تمہیں بتایا گیا ہے، اور نہ وہ جو تم نے پڑھا ہے۔ سچ وہ ہے جو تمہارے اندر چھپا ہے، جسے تم خود دریافت کرو گے۔”

میں نے بے یقینی سے ان کی طرف دیکھا۔ “لیکن میں اپنے اندر کیسے جھانکوں؟ وہاں تو اندھیرا ہے!”

صوفی ہلکے سے ہنسے، جیسے کوئی دریا اپنے کنارے سے سرگوشی کر رہا ہو۔ وہ اٹھے، اور میرے سامنے ایک آئینہ رکھ دیا۔

“اس میں دیکھو!”

میں نے جھانکا—اور خود کو پایا، مگر وہ میں نہیں تھا۔ وہ تو ایک سمندر تھا، جس کے کنارے انجانی لہروں سے لپٹے ہوئے تھے۔ کہیں پرانی یادوں کے جزیرے ابھر رہے تھے، کہیں پچھتاووں کے بھنور تھے، کہیں خواہشوں کے طوفان، کہیں خاموشیوں کے ساحل۔

“یہ تم ہو، اور یہی تمہارا راستہ ہے۔” صوفی کی آواز میں سکون تھا، جیسے کسی ویرانے میں اذان کی بازگشت سنائی دے جائے۔

“اگر تم نے اس سمندر کو سمجھ لیا، تو ہر منزل خود تمہیں بلائے گی۔ مگر اگر تم اس میں کھو گئے، تو راستہ بھی فریب ہو جائے گا اور منزل بھی سراب۔”

میں ساکت کھڑا تھا۔ میری سوچیں جیسے کسی نامعلوم دائرے میں محوِ گردش تھیں۔ صوفی نے چراغ کی لو کی طرف دیکھا، ہلکی سی پھونک ماری، اور چراغ بجھ گیا۔

مگر میرے اندر…
ایک روشنی جاگ چکی تھی۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top