عشق کا پہلا اشک

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

کہتے ہیں آغازِ عشق ایک لمحہ ہوتا ہے—ایسا لمحہ جو وقت کی گنتی میں نہیں آتا، جو گھڑیوں کی سوئیوں سے آزاد، مگر دل کی دھڑکنوں پر حکمرانی کرتا ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جب آنکھ سے گرنے والا پہلا اشک، کسی فانی درد کا اظہار نہیں ہوتا، بلکہ ایک ابدی تلاش کا اعلان ہوتا ہے۔ وہ اشک، جو بظاہر پانی ہے، درحقیقت آگ کا پہلا قطرہ ہوتا ہے۔ وہ آگ جو دل کی گہرائیوں سے اٹھتی ہے، خاموشی سے، بغیر صدا کے، مگر ہر تصور کو جلا کر رکھ دیتی ہے۔ وہ اشک ایک دستک ہوتا ہے—روح کے دروازے پر، ایک راز ہوتا ہے—جسے صرف وہی سمجھتا ہے جس نے خود کو کھو کر پایا ہو۔
جب وہ اشک گرتا ہے تو انسان پہلی بار خود سے اجنبی ہو جاتا ہے۔ اُسے محسوس ہوتا ہے کہ وہ جو سمجھا گیا، وہ جو دیکھا گیا، اور وہ جو جیا گیا—وہ سب ایک پردہ تھا، اور پردے کے پیچھے کوئی اور ہے۔ یہ اشک عقل کے تخت کو الٹ دیتا ہے۔ وہ فلسفے جو کتابوں میں قید تھے، اب دل کی دھڑکنوں میں بہنے لگتے ہیں۔ ہر دلیل مٹی ہو جاتی ہے، ہر سوال عبادت بن جاتا ہے، اور انسان جان لیتا ہے کہ حقیقت کو پانے کے لیے خود کو مٹانا شرط ہے۔
اسی اشک کی برکت سے دل کی ویران راہوں میں ایک چراغ سا جل اٹھتا ہے۔ نہ وہ روشنی کسی سورج کی ہوتی ہے، نہ کسی چاند کی، بلکہ وہ خود ہمارے اندر سے ابھرتی ہے—جیسے فطرت نے دل کے غار میں وحی کی پہلی آواز اتاری ہو۔ وہ چراغ نہ صرف روشنی ہوتا ہے، بلکہ ایک سوال بھی ہوتا ہے: کون ہوں میں؟ اور یہ سوال خود جواب بن کر دل کے ہر گوشے کو جھنجھوڑنے لگتا ہے۔ ایک آگ سی لگتی ہے، جو جلاتی نہیں، بلکہ صاف کرتی ہے۔
یہ عشق جو اشک سے شروع ہوتا ہے، رفتہ رفتہ مٹی کو پر عطا کر دیتا ہے۔ ہم اپنے فانی جسم کو جان کر بھی پہلی بار امر کو محسوس کرتے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ ہم جھکنے نہیں، پرواز کرنے آئے تھے—مگر یہ پرواز، غرور کی نہیں، فنا کی پرواز ہے۔ ہر سجدہ محض جھکنا نہیں رہتا، بلکہ فنا کا ایک اعلان بن جاتا ہے۔ ہر اشک اب شکوہ نہیں، بلکہ شکر کا پہلا قطرہ بن جاتا ہے۔ ہم جاننے لگتے ہیں کہ اصل معراج زمین پر چہرہ رکھ کر آسمان کی طرف دیکھنا نہیں، بلکہ دل کی گہرائیوں میں اس چمک کو پانا ہے جو عرش سے پہلے، عرش والے کا جلوہ ہے۔
عشق کا پہلا اشک بولتا نہیں، مگر اس کی خاموشی کائنات سے بلند صدا رکھتی ہے۔ ہم سنتے ہیں کہ خاموشی کی بھی ایک زبان ہوتی ہے، جس میں الفاظ نہیں، صرف احساس ہوتے ہیں۔ اور ہر احساس میں وہی موجود ہوتا ہے جسے عقل پکارتی رہی، مگر پہچان نہ سکی۔ یہی وہ مقام ہے جہاں اذانیں بھی خاموشی میں سنائی دیتی ہیں، اور دعائیں اشکوں سے ادا ہوتی ہیں۔ یہاں عبادت، عبادت نہیں رہتی، بلکہ ایک حالت بن جاتی ہے۔ اور وہ حالت، وہی عشق ہے، جو اشک سے شروع ہو کر ازل کی دہلیز تک جا پہنچتا ہے۔
جو پہلا اشک گرا تھا، اب وہ اشک ہماری ہر سانس میں تحلیل ہو چکا ہوتا ہے۔ ہم اب وہ نہیں رہتے جو کبھی تھے۔ یہ فنا، موت نہیں، بلکہ اصل زندگی ہوتی ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں ہر طلب ختم ہو جاتی ہے، اور بس ایک ہی تمنا باقی رہتی ہے: اسی کا ہونا، اور اسی میں کھو جانا۔ ہم جب خود کو گنواتے ہیں، تب ہی اسے پاتے ہیں۔ یہی عشق کی سب سے بڑی حقیقت ہے—جو پاتا ہے، وہ کھو دیتا ہے، اور جو کھو دیتا ہے، وہ پا لیتا ہے۔
عشق کا پہلا اشک کوئی آغاز نہیں، یہ ایک دروازہ ہے—وہ دروازہ جو باطن میں کھلتا ہے، جس کے پار نور ہے، سکون ہے، اور وہ راز ہے جو الفاظ میں نہیں، صرف اشکوں میں بیان ہوتا ہے۔ اگر تم کبھی اکیلے بیٹھے ہو، اور اچانک ایک آنسو بہہ جائے، تو سمجھ لینا کہ یہ عشق کا پہلا اشک ہے—اور یہی وہ لمحہ ہے جس سے ابدی زندگی کا سفر شروع ہوتا ہے۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top