(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
ایک وقت آتا ہے جب انسان، ہزاروں جستجوؤں اور صدہا تمناؤں سے تھک کر ٹھہرنے لگتا ہے۔ نہ وہ تھکن جسم کی ہوتی ہے، نہ کسی خارجی مشقت کی، بلکہ وہ روح کی ایک ایسی بیزاری ہوتی ہے جو دنیا کے رنگوں کو بےرنگ اور آوازوں کو بےمعنی کر دیتی ہے۔ اور تب، اسی سکوت میں، ایک لطیف صدا دل کے پردوں پر اُترتی ہے: “وہی کافی ہے۔”
یہ صدا کوئی نیا نغمہ نہیں، بلکہ فطرت کی پرانی صدا ہے، جو ازل سے روحِ آدم کے اندر جاری ہے۔ مگر جب تک دل دنیا کے ہنگاموں میں غرق رہے، تب تک وہ صدا دبتی ہے، گم ہوتی ہے، خاموشی میں بھی سنائی نہیں دیتی۔
اور جب کوئی ساعت آتی ہے کہ انسان ہر سہارے سے ہاتھ کھینچ لیتا ہے، اور ہر در سے لوٹ آتا ہے، تب اس کی باطن کی راہ روشن ہونے لگتی ہے۔ تب عقل خاموش ہو کر عاجزی کا لبادہ اوڑھتی ہے، اور آنکھیں اشکوں سے وضو کرتی ہیں۔ اور وہ اشک، وہی پہلے دروازے کی دستک ہوتے ہیں۔ روح کے حجرے پر پہلی بار کوئی روشنی لرزتی ہے۔ اور وہ روشنی کہتی ہے: “بس وہی۔ وہی کافی ہے۔”
اے طالبِ حق! جان کہ یہ کوئی لفاظی نہیں، نہ شاعری ہے، نہ کوئی جذباتی فریب۔ یہ وہی راز ہے جو پتھروں میں چھپی مخلوق کو جلا بخشتا ہے، جو بےآب زمین کو سیراب کر دیتا ہے، اور جو ایک شکستہ انسان کو عرش سے جوڑ دیتا ہے۔
ہم نے عقل سے پوچھا، تُو کہاں تک پہنچتی ہے؟
اس نے کہا: “جہاں سوال ختم ہوں، وہاں میں تھک جاتی ہوں۔”
ہم نے علم سے پوچھا، تُو کیا جانتی ہے؟
اس نے کہا: “جو میں جانوں، وہ ایک ذرہ ہے، اور جو میں نہ جانوں، وہ بحرِ بے کنار۔”
تب دل نے آہستہ کہا: “تو سن لو، وہی کافی ہے۔”
یہ کہنا، اس میں فنا ہونا ہے۔ یہ جان لینا کہ اپنی ہستی ایک دھوکہ تھی، اور اُس کی ذات ہی اصل ہے۔ یہی عرفان ہے، یہی تصوف، یہی فلسفہ، یہی دین کی روح۔
پس جب دل نے یہ کہا کہ “وہی کافی ہے”، تو گویا ساری دنیا نے خاموش ہو کر اس کی تائید کی۔ کوئی لفظ نہ بولا گیا، مگر ہر شے بولی۔ کوئی زبان نہ ہلی، مگر ہر ذرہ گواہ بن گیا۔ ہر سمت سے ایک ہی آواز آنے لگی: “ھوَ اللّٰہ، ھوَ اللّٰہ، ھوَ اللّٰہ”۔
اب جسے یہ راز نصیب ہو، وہ مال کے لیے لڑتا نہیں، عزت کے پیچھے بھاگتا نہیں، محبت میں خود کو فنا کر دیتا ہے، اور دنیا کی ہر چیز میں صرف ایک ہی نور دیکھتا ہے۔ وہ جو قرآن نے فرمایا: “فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْہُ اللّٰہِ” — جہاں دیکھو، بس وہی۔
اور یہی اصل عبادت ہے، یہی اصل اسلام۔ نہ کوئی غارِ حرا کی ضرورت، نہ صحرا کا سفر۔ صرف اپنے دل کے حجرے میں سجدہ کر، وہیں سے ندا آئے گی: “وہی کافی ہے۔”
جو اس ایک جملے کو سمجھ گیا، وہ دنیا کی سب کتابوں سے آزاد ہو گیا، اور جو نہ سمجھا، وہ ساری کتابوں کا بوجھ اُٹھائے، پھر بھی خالی رہا۔
یہ تحریر نہ اختتام رکھتی ہے، نہ ابتدا، کیونکہ جس کا ذکر ہے، وہی ازل بھی ہے اور ابد بھی۔ اگر تو نے یہ بات دل سے سنی ہے، تو سمجھ لے، کہ تُو اُس تک پہنچ گیا ہے، اور اگر صرف آنکھ سے پڑھی ہے، تو ابھی سفر باقی ہے۔
پس دل نے کہا: وہی کافی ہے۔