حیاتِ ثانی کا سفر: عبد سے عبدی نسبت تک

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

روحانی بیداری کا سفر ایک لطیف مگر گہرا تجربہ ہے۔ یہ صرف ظاہر سے باطن کی طرف ایک قدم نہیں، بلکہ باطن کے دریچوں سے حقیقتِ ازل کا مشاہدہ ہے۔ یہ راہ کوئی رسم و رواج کی قید نہیں، بلکہ ایک درِ درون ہے — جو سالک کو اس کی محدود شناخت سے نکال کر ایک لازوال نسبت میں پرو دیتا ہے۔
اس جستجو میں ایک لمحہ ایسا بھی آتا ہے جب ایک صدا باطن میں گونجتی ہے:
“اپنے نفس کی زنجیروں کو توڑ، اور اُس حقیقت سے جُڑ جا جو نہ مٹتی ہے، نہ بدلتی ہے۔”
یہ پکار کوئی عام دعوت نہیں، بلکہ ایک باطنی زلزلہ ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جب سالک کو اپنے آپ سے، اپنی خواہشات سے، اور ہر عارضی نسبت سے دستبردار ہونا پڑتا ہے۔ یہ پیچھے ہٹنا، درحقیقت آگے بڑھنے کا آغاز ہوتا ہے۔ یہ انکار، ایک نئے اثبات کی دہلیز ہے — ایسا اثبات جو کسی فکر یا فلسفے سے نہیں، ذاتِ مطلق سے جُڑنے سے جنم لیتا ہے۔
یہ وہ مرحلہ ہے جہاں راہی سے کہا جاتا ہے:
“اپنی ہستی کا خول اتار دے، اور اُس قرب کا لباس پہن لے جو ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا۔”
یہ دراصل نفیِ خود سے اثباتِ حق تک کا سفر ہے۔ اور جب یہ نسبت بدلتی ہے — جب انسان اپنی محدود خودی سے نکل کر ذاتِ حق کے دائرۂ نور میں داخل ہوتا ہے — تب وہ پہلی بار ایک ایسی زندگی کا ذائقہ چکھتا ہے جو دنیاوی زندگی سے الگ، لیکن اسی کے اندر رچی بسی ہوتی ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جسے عارفین “حیاتِ ثانی” کہتے ہیں — وہ زندگی جو فنا کے بعد ملتی ہے، مگر حقیقتاً پہلی بار جینے کا نام ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں سالک کو بتایا جاتا ہے: اب صرف ترکِ دنیا یا نفیِ نفس کافی نہیں۔ اب محض “نہ ہونا” کافی نہیں، اب “حق کے ساتھ ہونا” بھی لازم ہے۔ کیونکہ سچائی صرف انکار سے نہیں، بلکہ مکمل اقرار سے مکمل ہوتی ہے۔
یہی نسبت کا بدلنا ہے — ایک داخلی انقلاب۔
پہلے سالک کہتا تھا: “میں کچھ نہیں”
اب کہتا ہے: “حق ہی سب کچھ ہے — اور میری ہستی اب اُس کی رضا کے سائے میں سانس لیتی ہے۔”
عارفین کہتے ہیں: فنا اور بقا، ایک ہی حقیقت کے دو رخ ہیں۔
فنا یہ راز کھولتی ہے کہ تُو وہ نہیں جو تجھے گمان تھا،
اور بقا یہ حقیقت دکھاتی ہے کہ تُو اب اُس کے لیے ہے، جس کے بغیر تُو کچھ بھی نہیں۔
جب کوئی راہی فنا کے اندھیرے سے گزر کر بقا کی روشنی میں داخل ہوتا ہے، تو اس کی آنکھیں وہ دیکھنے لگتی ہیں جو نظر سے نہیں، دل سے دکھایا جاتا ہے۔ وہ دنیا میں ہوتے ہوئے بھی دنیا سے بلند ہو جاتا ہے — ہر شے میں اس کا جمال، ہر سانس میں اس کا کلام، ہر لمحے میں اس کی رضا نظر آنے لگتی ہے۔
پس اے راہِ طلب کے مسافر!
جب تیری نسبت فنا سے ہٹ کر بقا سے جُڑ جائے گی — تب تیرے اندر کا شور، آہستہ آہستہ خاموش ہو جائے گا۔
پھر ایک سکوت اُترے گا — ایسا سکوت جو خالی نہیں، بلکہ بھرپور ہو گا… اُس کے قرب سے، اُس کی مہربانی سے۔
تُو خود کو ڈھونڈے گا، مگر اپنی پہچان کھو چکا ہو گا ،تجھے اپنی جگہ صرف وہ نظر آئے گا،،،جو تجھ میں سانس لے رہا ہو گا۔ تب تُو سمجھے گا: تُو مٹا نہیں، تُو بچ گیا ہے…اس کی آغوش میں، اس کی بقا میں، ہمیشہ کے لیے۔ یہی وہ لمحہ ہے جب زندگی پہلی بار اپنے اصلی معنی میں شروع ہوتی ہے — جہاں نہ تیری خواہش باقی رہتی ہے، نہ تیری ضد، نہ تیرا خوف۔
بس اُس کا نور ہوتا ہے، اُس کی رضا، اور اُس کی محبت کی لپک۔
اور جب بندہ اُس کی رضا میں جینے لگے، تو پھر فنا باقی نہیں رہتی، بس بقا ہی بقا ہوتی ہے۔ اور یہی وہ لمحہ ہے — جہاں دل خاموشی سے کہتا ہے:
“الآن وجدتک، یا رب… اب میں نے تجھے پا لیا!”

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top