صفات سے ذات تک

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

انسان اپنی تمام تر ظاہری آگاہی، عقل و دانش، اور عبادت و ریاضت کے باوجود اس وقت تک حقیقتِ قربِ الٰہی کو نہیں چکھ سکتا، جب تک وہ “تصور” سے نکل کر “تجربہ” میں داخل نہ ہو جائے۔
ذکر و ورد، دعا و التجا، اور گریہ و نیاز — یہ سب وہ دروازے ہیں جن پر سالک کی دستک تو سنائی دیتی ہے، مگر در کھلتا تب ہے جب “میں” مر جائے۔
ذکر صرف زبان کی جنبش نہیں، یہ روح کا انجماد پگھلانے کا عمل ہے۔ ابتدا میں انسان صرف صفاتِ الٰہی کی طرف مائل ہوتا ہے — رحمت، رزق، حکمت، جمال۔ مگر صفات کے اس دائرے میں رہتے رہتے ایک وقت ایسا آتا ہے جب سالک کے باطن میں ایک نئی تڑپ جنم لیتی ہے: “کیا کوئی ہے جو صرف خدا کو خدا کی خاطر چاہے؟ نہ عطا کی طلب، نہ مسئلے کا حل، نہ کوئی عرض؟” یہی لمحہ وہ موڑ ہے جب ذکر محض ادا نہیں رہتا، بلکہ اندر جذب ہونا شروع ہوتا ہے۔
دل کے اندر ایک چپ لگتی ہے، اور وہ چپ خود کلامِ خدا بن جاتی ہے۔
لیکن ذاتِ الٰہی کا قرب اس وقت تک نہیں ملتا جب تک صفات کی دیوار گرا کر انسان فنا کا ذائقہ نہ چکھ لے۔
فنا یعنی خودی کا زوال، انانیت کا اختتام، “میں” کا نیست ہو جانا۔
جس دن سالک ذکر کو اپنی ذات میں جذب کرنے کے بجائے خود ذکر میں فنا ہونے لگے، وہی دن وصالِ یار کی پہلی کرن بن کر طلوع ہوتا ہے۔
یہ مقام مشاہدۂ ذات کا نہیں بلکہ محویتِ ذات کا ہوتا ہے — جہاں لفظ بھی ہار مان جاتے ہیں، اور تصور بھی پگھل جاتا ہے۔
یہاں جو باقی رہتا ہے، وہ صرف حضور ہے، نہ فہم کی گنجائش، نہ طلب کی ہمت۔
ذکر کا اصل کمال یہ نہیں کہ آپ خدا کو پکارتے ہیں — اصل کمال یہ ہے کہ ذکر آپ کو پکارے، اور آپ کے اندر سے آپ کو نکال کر، آپ کو اسی میں ضم کر دے جس کا نام صرف “هو” ہے۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top