(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
قبر کی گہرائی میں اترنے کے بعد، زندگی کی ساری مصروفیات، رشتے، کاروبار، شہرت، اور دنیا کی تمام تر شوریدہ آوازیں خاموش ہو جاتی ہیں۔ صرف ایک گہرا سکوت باقی رہ جاتا ہے، جو بظاہر خاموش مگر حقیقت میں چیخ رہا ہوتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جب انسان کی روح ایک نئے سفر پر روانہ ہوتی ہے، جہاں اسے پہلے سوال کا سامنا ہوتا ہے: “مَن رَبُّكَ؟” — تیرا رب کون ہے؟
یہ سوال صرف ایک معلوماتی امتحان نہیں، کہ انسان زبان سے رٹے رٹائے لفظ “اللّٰه” کہہ دے اور نجات پا جائے۔ یہ سوال زندگی کے ہر گوشے، ہر لمحے، ہر نیت اور ہر قدم کا حساب مانگتا ہے۔ یہاں صرف الفاظ نہیں، اعمال بولیں گے۔ زندگی میں جس نے جو کہا، جو سوچا، جو چُنا، جو چھوڑا، جس سے محبت کی، جس سے خوف کھایا، سب سامنے آ جائے گا۔
فرشتے صرف یہ نہیں پوچھیں گے کہ “تو کس دین کا ماننے والا تھا؟” وہ یہ بھی کہیں گے: “ہم نے تیری زندگی کی فلم دیکھی ہے، ہم جانتے ہیں کہ جب دنیا نے تجھے بلایا، تو تو دوڑ پڑا، اور جب رب نے رات کے آخری پہر میں تجھ سے راز و نیاز کا وقت مانگا، تو تو سویا رہا۔ جب دوست نے دعوت دی، تو تُو تیار ہو گیا، اور جب رب نے فرض نماز کے لیے بلایا، تو مصروف ہو گیا۔ تُو نے محبتوں کا مرکز دنیا کو بنایا، رب کو نہیں۔”
یہ وہ مقام ہے جہاں چالاکیاں نہیں چلیں گی، جہاں بہانے اپنی موت آپ مر جائیں گے، جہاں نیتوں کے پیچھے کی اصل حقیقت عیاں کر دی جائے گی۔ وہاں زبان بند ہو جائے گی، ہاتھ پاؤں بولیں گے، نگاہیں گواہی دیں گی، دل کے ارادے پیش کیے جائیں گے، اور زندگی کے ہر قدم کی شہادت اس کی عملی فلم کی صورت میں دکھا دی جائے گی۔
وہ راتیں بھی سامنے آ جائیں گی جن میں نفس کی پکار پر جاگ جاگ کر خواہشوں کو سجدے دیے گئے، لیکن رب کی پکار پر کانوں نے پردے اوڑھ لیے۔ جب فلم، فیشن، فتنہ اور فیس بک کے لیے راتیں قربان کیں، مگر تہجد کی اذان پر کروٹ بدل لی۔ جب دنیاوی محفلوں میں گھنٹوں گزار دیے مگر قرآن کھولنے کو چند منٹ بھی میسر نہ ہوئے۔ وہ دن بھی دکھائے جائیں گے جن میں مال دنیاوی آسائشوں پر بے دریغ لٹایا گیا، مہنگے لباس، عیش پرستی، موبائل فون، برانڈڈ جوتے، قہقہوں، دعوتوں، تصویروں، اور فخر کے نمائشوں پر دولت بہا دی، لیکن جب رب کے بندے محتاج بن کر سامنے آئے، تو ہم نے نظریں پھیر لیں، لفظوں سے جھوٹی تسلی دی، یا بٹوے کی زپ اور دل دونوں بند کر لیے۔
وہ لمحے بھی محفوظ ہوں گے جن میں کسی انسان کے سامنے جھک گئے، رشتوں کے دباؤ پر حق کو چھوڑا، نوکری کے خوف سے حلال و حرام کی تمیز بھلا دی، سوسائٹی کی خوشنودی کے لیے رب کی نافرمانی کی، لیکن جب اللہ کے حضور سجدے میں گرے تو محض رسم پوری کی، دھیان دنیا میں، دل خواہشوں میں، اور زبان ذکر سے خالی۔
وہ گفتگوئیں بھی چلائی جائیں گی جن میں غیبت کو چاشنی، بہتان کو ہنسی، اور جھوٹ کو تدبیر سمجھا گیا۔ وہ معاہدے بھی کھولے جائیں گے جن میں وعدہ خلافی تھی، دھوکہ تھا، فریب تھا۔ وہ تعلقات بھی بے نقاب ہوں گے جن میں اللہ کی حدود پامال ہوئیں، اور ہم نے اپنی چاہتوں کو رب کی حرمتوں پر فوقیت دی۔
وہ پل بھی پیش ہوں گے جب اللہ نے ہمیں بے حساب نعمتیں دیں—آنکھیں، دل، زبان، وقت، علم، صحت، طاقت—مگر ہم نے یہ سب رب کی نافرمانی میں استعمال کیا۔ وہ مواقع بھی گنے جائیں گے جب ہمیں سچ بولنے، حق کا ساتھ دینے، ظلم روکنے کا موقع ملا، مگر ہم نے خاموشی کو پناہ، اور مصلحت کو ڈھال بنا لیا۔
وہ لمحے بھی محفوظ ہیں جب اذان سن کر دل بےاثر رہا، اور مسجد کا دروازہ قریب ہوتے ہوئے بھی ہماری قدموں نے رخ موڑ لیا۔ وہ دن بھی پیش ہوں گے جب ہمیں رب نے گناہ سے بچنے کے لیے ضمیر کا الارم بجایا، مگر ہم نے اسے دبا دیا، اور گناہ کی طرف چل پڑے—ہنستے، گاتے، اور یہ سمجھتے ہوئے کہ زندگی بہت طویل ہے۔
اور وہ آنسو بھی دکھائے جائیں گے جو ہم نے رب کے لیے نہیں، دنیا کے لیے بہائے تھے۔ وہ مسکراہٹیں بھی جن کے پیچھے منافقت تھی، وہ نیکیاں بھی جن کے پیچھے شہرت تھی، اور وہ عبادتیں بھی جن میں ریاکاری چھپی ہوئی تھی۔
ان تمام مناظر کے بیچ جب فرشتے سوال کریں گے: “مَن رَبُّكَ؟”
تو وہاں زبان نہیں، دل بولے گا؛ عمل بولے گا؛ نیتیں، ترجیحات، قربانیاں، اور خلوص گواہی دیں گے۔
پھر فرشتے کہیں گے: “تو کہتا ہے تیرا رب اللہ تھا؟ بتا، جب تجھے ضرورت پڑی تو کس در پر گیا؟ جب تیرے دل میں خوف آیا تو تو نے کس کی پناہ لی؟ جب تجھے تنہائی نے گھیر لیا، تو کس سے بات کی؟ جب تجھے خوشی ملی تو تو نے کس کا شکر ادا کیا؟ اور جب تجھے طاقت ملی تو تو نے کس کی اطاعت کی؟”
یہ وہ لمحہ ہے جب “مَن رَبُّكَ؟” کا جواب صرف وہی دے سکے گا جس کی زندگی کی گواہی، اس کے الفاظ سے پہلے آ جائے گی۔ وہ بندہ جس کی فجر، اس کی دلیل ہو گی جس کی زکوٰۃ، اس کی وکالت کرے گی
جس کا قرآن سے رشتہ اس کا تعارف بنے گا اور جس کی نیتیں، اس کی سچائی کی گواہ ہوں گی۔
اور جس نے رب کو صرف زبان پر رکھا، زندگی میں نہیں، اس کے اعمال اس کے خلاف گواہی دیں گے۔ جس کا رب اصل میں دنیا، نفس، خواہش یا شہرت تھی، اس کے لب کانپیں گے، اور وہ صرف “ہا ہا لا ادری” کہہ پائے گا — ہائے! مجھے کچھ معلوم نہیں۔
قبر کا یہ سوال، دراصل پوری زندگی کا فیصلہ کن لمحہ ہے۔ اگر زندگی میں رب کو مقصد، محبوب، اور حاکم مانا، تو وہاں جواب آسان ہو جائے گا۔ اگر زبان سے اقرار کیا لیکن دل دنیا کے سامنے جھکتا رہا، تو قبر اندھیرے میں بدل جائے گی۔ اس لیے، اصل تیاری یہ نہیں کہ ہم “ربّی اللّٰه” کہنے کا فن سیکھیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم رب کو زندگی کا مرکز بنائیں۔
تیرا رب وہی ہے جس کے لیے تو جاگتا ہے، جس کے لیے روتا ہے، جس کے لیے وقت نکالتا ہے، جس سے ڈرتا ہے، جس کی خوشنودی کو اپنی کامیابی سمجھتا ہے۔ اگر تیرے فیصلوں میں رب کا حکم سب سے آخر میں آتا ہے، تو جان لے کہ تیرا رب تیرے دعووں میں ہے، حقیقت میں نہیں۔
اور یاد رکھ—وہاں صرف وہی کامیاب ہو گا جو سچ بولے گا۔ اور سچ وہی ہے جسے زندگی نے ثابت کیا ہو۔
اللّٰه ہمیں اُن بندوں میں شامل کرے جن کے اعمال، ان کے ایمان کی گواہی بنیں، اور قبر میں فرشتوں کے سامنے ہم سکون سے کہہ سکیں:رَبِّيَ اللّٰهُ
میرا رب اللہ ہے