نہ پندارِ ہستی، نہ فکرِ فنا ہے
مرے دل میں اب بس تری آرزو ہے
محبت کی راہوں میں ثابت قدم رہ
یہی بندگی ہے، یہی مدعا ہے
الٰہی! دکھا دے وہ منزل ہمیں بھی
َ جسے ڈھونڈتی ہر طرف یہ ضیا ہے
محبت کی راہوں میں ثابت قدم رہ
َ یہی بندگی ہے، یہی مدعا ہے
نعیم اپنے دل کو مصفا بنا لے
کہ ٹوٹا ہوا دل ہی عرشِ خدا ہے
