سرشار ہے میرا دلِ پُر خوں بھی وفا میں

غزل

سرشار ہے میرا دلِ پُر خوں بھی وفا میں
محسوس ہے تیرا ہی کرم اپنی بقا میں

تسکینِ دل و جاں ہے تری حمد و ثنا میں
آواز تجھے دیتا ہوں ہر ایک صدا میں

تاریک شبِ غم میں مجھے خوف نہیں ہے
لب پر ہے ترا نام مری شمعِ دعا میں

ہر لمحہ عنایت ہے تری، فضل ہے تیرا
“کس کس تری نعمت کا کروں شکر ادا میں”

آفاق کے ہر رنگ میں جلوہ ہے تمہارا
گلشن کی بہاروں میں کہ تاروں کی ضیا میں

آلامِ زمانے سے کبھی ڈر نہیں لگتا
رہتا ہوں تری رحمتِ بے حد کی قبا میں

محشر کی تپش کا بھی مجھے خوف نہیں اب
امیدِ کرم ہے مجھے روزِ جزا میں

شاکر ہے ترا بندہ ہر اک حال میں مولا!
سر اپنا جھکاتا ہوں بس تیری رضا میں

آغوشِ لحد میں بھی نعیم اب نہ ڈرے گا
رکھتا ہے یہی آس تری شانِ عطا میں

نعیم باجوہ

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top