اڑا کے لائے مرا شوقِ نغمہ بار مجھے
کہیں بھی اب نہ ملے راہ میں قرار مجھے
تری طلب میں بھلا دی ہیں وسعتیں اپنی
سمیٹ کر مری ہستی، ذرا سنوار مجھے
نہ چھین مجھ سے مری بے خودی کا عالم تو
ترے ہی قرب میں ملتا ہے اعتبار مجھے
میں ذرہ ہوں مجھے اس در کی خاک ہونا ہے
نصیب ہو اسی چوکھٹ کا بس غبار مجھے
غمِ حیات کی تلخی بھی اب ہے شیریں سی
ملا ہے جب سے تری یاد کا حصار مجھے
نہ چھیڑ اے دلِ مضطر! سکون پانے دے
نہیں ہے اب کسی منزل کا انتظار مجھے
تری گلی کے سوا اے مرے دل آرا اب
لگے ہے دشتِ جنوں سارا ہی دیار مجھے
اسی کی لو میں جلے جا رہے ہیں ہم اے دوست
بنا گیا ہے جو اک شعلہِ شرار مجھے
یہ تیری بزم کا فیضان ہے مرے مولا
جو مل گیا ہے زمانے میں یہ وقار مجھے
مری حیات کا حاصل بس اب یہی ہے نعیم
خدا کرے کہ ملے وصلِ یارِ غار مجھے
