عطا کر دے نئی منزل، مِرے اس شوقِ بستہ کو

غزل

عطا کر دے نئی منزل، مِرے اس شوقِ بستہ کو
جگا دے بختِ خوابیدہ، سکوں دے قلبِ خستہ کو

تری یادوں کی خوشبو سے مہک اٹھا ہے سارا من
ملی ہے زندگی پھر سے مِرے عہدِ گزشتہ کو

غمِ دنیا کی کڑواہٹ تو سب ہی چکھتے رہتے ہیں
پلا دے آ کے تُو امرت لبِ محروم و بستہ کو

ہوائیں رخ بدلتی ہیں تمہاری ایک جنبش سے
سنبھالے کون اب تیرے سوا اس پَر شکستہ کو

کرم کی اک نظر ہو گی تو بگڑی بن ہی جائے گی
َ نعیم اب جوڑ لے تو بھی کسی دامن سے رشتہ کو

نعیم باجوہ

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top