کس کی آہٹ نے مرے دل کو جگایا ہو گا

غزل

کس کی آہٹ نے مرے دل کو جگایا ہو گا
“کون آئے گا یہاں، کوئی نہ آیا ہو گا”

بجھ گئی ہوں گی سبھی طاق پہ روشن شمعیں
میری وحشت نے مرا شہر جلایا ہو گا

: اشک پلکوں پہ تری تھم کے جو لرزا ہو گا
میری یادوں نے اسے بوجھ بنایا ہو گا

آ کے جس در سے زمانے نے مرادیں پائیں
ہم نے اس در پہ ہی دامن کو بچھایا ہو گا

تیری محفل میں جو خاموش کھڑا تھا کل تک
تیری آنکھوں نے اسے حال سنایا ہو گا

دیکھ کر مجھ کو سرِ راہ گزر اے ہمدم
تیری پلکوں نے کوئی اشک چھپایا ہو گا

جس کی خوشبو سے مہکتی ہے مری روح نعیم
اس نے خود بڑھ کے مجھے گلے لگایا ہو گ

نعیم باجوہ

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top