خاک کے پیکر میں کوئی کیمیا ڈھونڈا کرے

غزل

خاک کے پیکر میں کوئی کیمیا ڈھونڈا کرے
تشنہ لب اب زندگی کا حوصلہ ڈھونڈا کرے

ہر مسافر وقت کی دیوار پر لکھا ہوا
اپنے ہونے کا کوئی تو نقشِ پا ڈھونڈا کرے

روشنی کی جستجو میں جل گئے کتنے چراغ
اب اندھیرا بھی نیا اک مدعا ڈھونڈا کرے

کشتیاں ساحل کی جانب رخ بدلتی ہی نہیں
ناخدا اب لہر میں ہی راستہ ڈھونڈا کرے

بند کمروں میں مقید ہو گئی ہے آگہی
ذہن کی وسعت میں اب کوئی فضا ڈھونڈا کرے

آئینہ خود عکس کو پہچاننے سے ہے گریز
آدمی اب آئینے میں دوسرا ڈھونڈا کرے

حرفِ حق کہنا اگر جرمِ مسلسل ہے نعیم
پھر کوئی مصلوب ہونے کی سزا ڈھونڈا کرے

نعیم باجوہ

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top