اگر تم عشق کرتے ہو تو بیعت کیوں نہیں کرتے

غزل

اگر تم عشق کرتے ہو تو بیعت کیوں نہیں کرتے
جنوں کے راستے کی کچھ مسافت کیوں نہیں کرتے

​بکھرنے کا سلیقہ آگیا ہے جب تمہیں جاناں!
تو پھر یادوں کے مرکز کی حفاظت کیوں نہیں کرتے

​تمہاری نیم وا آنکھوں میں لکھے ہیں کئی قصے
انہیں پڑھ کر کسی دن تم تلاوت کیوں نہیں کرتے

​ہمارا دل تو بس اک مشتِ خاکِ راہ ہے پیارے
تم اس اجڑے ہوئے گھر میں سکونت کیوں نہیں کرتے

​جو سجدہ عشق کی معراج کہلاتا ہے دنیا میں
جبیں کو وقفِ خاکِ راہِ الفت کیوں نہیں کرتے

​محبت تو وہ دریا ہے جو پیاسوں کو نہیں تکتا
اتر کر اس کی لہروں میں بغاوت کیوں نہیں کرتے

​عدو کی سازشوں سے تم پریشاں کیوں ہو اے دلبر
نگاہِ شوق سے اپنی حفاظت کیوں نہیں کرتے

​خلوصِ دل سے مانگو تو ستارے ہاتھ آئیں گے
تم اپنے رب سے سچی سی تجارت کیوں نہیں کرتے

​قیامت تو بپا ہے ہجر کے خونی مناظر میں
وصالِ یار میں اس کی حکایت کیوں نہیں کرتے

​نعیم! اخلاصِ دل ہی تو بساطِ زندگی ٹھہرا
عطا جو کچھ ہوا اس پر قناعت کیوں نہیں کرتے

نعیم باجوہ

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top