“کہاں سنبھال کے رکھنا مغالطے اپنے

غزل

“کہاں سنبھال کے رکھنا مغالطے اپنے”
پلٹ کے لائے ہیں ہم ہی تو حادثے اپنے
​تلاشی لی تو فقط حسرتوں کا ڈھیر ملا
بھرے ہوئے تھے بہت ہم نے حافظے اپنے
​ہوائے وقت کے جھونکوں سے اب گلہ کیا ہے؟
بجھا دیے ہیں خود ہی ہم نے طاقچے اپنے
​خدا کا شکر کہ رستوں نے ساتھ چھوڑ دیا
تھکن سے چور تھے ورنہ یہ آبلے اپنے
​وہ تیرگی ہے کہ پہچاننا بھی مشکل ہے
پرائے کون سے ہیں اور ہیں کونسے اپنے
​کبھی تو دھوپ کے کینوس پہ روشنی لکھو
کب تک اتارو گے کاغذ پہ مرثیے اپنے
​اسی امید پہ زندہ ہیں اب تلک اے نعیم
بدل ہی جائیں گے اک روز زاویے اپنے

نعیم باجوہ

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top