جلوہ گر ہے یاد ان کی جب سے میرے سینے سے
خوفِ ہجر نکلا ہے دل کے آبگینے سے
وہ جو تشنہ لب پہنچے ان کے سنگِ در تک تو
بھر لیے ہمیانی خلد کے خزینے سے
پوچھو ہم گداؤں سے نسبتِ شہِ بطحاؐ
بادشاہی ملتی ہے خاکِ کم قرینے سے
رحمتِ دو عالم کا آسرا ہے کشتی کو
ڈر نہیں ہے لہروں کا، خوف کیا سفینے سے؟
غم نہیں زمانے کے حادثوں کا اے زاہد!
ہم نے لو لگائی ہے سرورِ مدینے سے
ان کے ذکر کی خوشبو روح میں بسائی ہے
فیض مل رہا ہے اب جینے اور مرنے سے
چاہتِ نبیؐ میں ہی ہے نجات اے نعیمؔ
کیوں نہ دل کو روشن کر لیں اس نگینے سے
جلوہ گر ہے یاد ان کی جب سے میرے سینے سے
غزل
