“زندگی تلخ سہی دل سے لگائے رکھنا

غزل

“زندگی تلخ سہی دل سے لگائے رکھنا”
بندگی، اپنی جبینوں پہ سجائے رکھنا

جس کی خوشبو سے ملے روح کو منزل کا پتا
ذکر کی ایسی کوئی شمع جلائے رکھنا

نفس کے دامِ مے و نوش سے بچ کر اے دل
اپنی ہستی کو گناہوں سے بچائے رکھنا

اس کی رحمت کے بھروسے پہ سفر کٹ جائے
آس کا ایک دیا من میں بسائے رکھنا

فقر کا زادِ سفر ترکِ تمنا ہی تو ہے
خواہشِ دنیا کو سینے میں دبائے رکھنا

رازِ ہستی ہے میاں مٹ کے ہی زندہ رہنا
خود کو اس ذاتِ یگانہ میں گنوائے رکھنا

خاک ہو کر ہی ملے گی تجھے رفعت اے نعیم
سر کو اس پاک ہی چوکھٹ پہ جھکائے رکھنا

نعیم باجوہ

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top