عجب وہ عکسِ جمالِ سحر میں رہتا ہے
خیال بن کے مری چشمِ تر میں رہتا ہے
نہ پوچھو اس کی حقیقت کہ وہ تو خوشبو ہے
ہوا کے ساتھ مدام اک سفر میں رہتا ہے
جسے میں ڈھونڈتا ہوں زمان و مکاں میں
وہی تو گوشۂ قلب و نظر میں رہتا ہے
بکھر کے رہ گئی دنیا مرے تخیل کی
عجیب شخص مری فکر میں رہتا ہے
وہ جس کے نام سے روشن ہیں بستیاں دل کی
وہی چراغ پسِ دیوار و در میں رہتا ہے
فریبِ زیست سے اب بچ کے جاؤں میں کہاں
کہ اب تو موت کا ڈر ہی عمر میں رہتا ہے
میں اپنے آپ سے ملنے کو ترستا ہوں نعیم
کوئی اور ہی اب میرے گھر میں رہتا ہے
