مسئلے دل کے تھے زیرِ نظر کتنے نکلے
اہلِ دل میں سے اہلِ ہنر کتنے نکلے
لینے نکلے تھے جائزہ اپنی شاہی کا
تیری نگری میں خاک بسر کتنے نکلے
سورج کے خالق تجھے خوب خبر ہو گی
تیری زمیں پر موم کے گھر کتنے نکلے
حاکم کی نیت کا ہے دار و مدار اس پر
دیکھو شجر کتنے تھے، ثمر کتنے نکلے
ایک دیے سے اندھیروں کا شر تو دیکھو
کچے گھڑے کو ڈبونے بھنور کتنے نکلے
مسندِ شاہی سے تم اتر کر دیکھو یہ بھی
اہلِ گھر تھے کبھی بے گھر کتنے نکلے
روزِ حشر حساب یہی ہونا ہے نعیم
انساں کتنے نکلے ، بشر کتنے نکلے