ہم تو سمجھ رہے تھے محبت میں آئے ہیں

غزل

ہم تو سمجھ رہے تھے محبت میں آئے ہیں
لیکن وہ خود غرض تو ضرورت میں آئے ہیں

یہ جاگنا تو اب ہے مقدر ٹھہر گیا
کچھ رتجگے جہیز کی صورت میں آئے ہیں

اپنی پسند کے تو یہ حق میں تھے بھائی سب
میں نے جو خواب دیکھا تو غیرت میں آئے ہیں

انصاف خود کھڑا ہے کٹہرے میں باندھے ہاتھ
ہم لوگ کس طرح کی عدالت میں آئے ہیں

وہ دیں گے اب فریب محبت مجھے نعیم
وہ میرے پاس میری عداوت میں آئے ہیں

نعیم باجوہ

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top