میں جس جگہ شجر تھا
وہی تو میرا گھر تھا
تھی آگہی کی پیاس اور
میں حرف معتبر تھا
جب تک رہا افق پر
میں اس کے لئے سحر تھا
میں رازداں سمجھتا رہا
وہ صرف ہم سفر تھا
اُسے اجنبی لگامیرا حوالہ
جسے نعیم میں ازبر تھا
غزل
میں جس جگہ شجر تھا
وہی تو میرا گھر تھا
تھی آگہی کی پیاس اور
میں حرف معتبر تھا
جب تک رہا افق پر
میں اس کے لئے سحر تھا
میں رازداں سمجھتا رہا
وہ صرف ہم سفر تھا
اُسے اجنبی لگامیرا حوالہ
جسے نعیم میں ازبر تھا