بےنیازی کا طلسم اور طلب کی کشمکش

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

کائنات میں ہر شے اپنی جگہ پر توازن، حکمت، اور خاموشی کے ساتھ گردش میں ہے۔ یہ ایک ایسا نظام ہے جو خدا کی بےنیازی کا مظہر ہے، کیونکہ وہی ذات ہر شے کی تخلیق کرنے والی اور ہر طلب سے پاک ہے۔ خدا کی بےعیبی کا کمال اس کائناتی توازن میں جھلکتا ہے، جہاں ہر مخلوق اپنی خامیوں کے باوجود اپنے مقصد کے لیے موزوں ہے۔

انسان، جو اس کائنات کا سب سے پیچیدہ مسافر ہے، اپنی ذات میں مکمل ہونے کے باوجود ہمیشہ کسی اور کی طلب میں مبتلا رہتا ہے۔ یہی اس کی سب سے بڑی کشمکش ہے—کسی کی نگاہ، کسی کے لمس، یا محض ایک لمحے کی توجہ کا محتاج ہونا۔
بےنیازی، جو دراصل صرف خدا کی صفات میں سے ہے، انسان کے لیے ایک کیفیت بن سکتی ہے، لیکن اس کی نوعیت مختلف ہے۔ انسان کی بےنیازی اسے مغرور نہیں بلکہ عاجز بناتی ہے۔ یہ اس کی اپنی خواہشات اور طلب سے بلند ہونے کی کوشش ہے۔ بےنیازی وہ مقام ہے جہاں انسان اپنی ذات میں مطمئن ہو جاتا ہے، اور دنیاوی آسائشوں یا دوسروں کی توجہ کا محتاج نہیں رہتا۔ یہ کیفیت انسان کو خدا کی بےنیازی کا فہم دیتی ہے، اور اسی کی روشنی میں وہ اپنے وجود کے حقیقی سکون کو تلاش کرتا ہے۔

یہی کائنات کا سب سے بڑا تضاد ہے—ایک طرف انسان کی بےنیازی، جو اسے سکون اور قناعت کی طرف لے جاتی ہے، اور دوسری طرف اس کی طلب، جو اسے ہمیشہ کسی نہ کسی کی جانب کھینچتی رہتی ہے۔ خدا کی بےنیازی کمال کی علامت ہے، جبکہ انسان کی بےنیازی ایک عاجزانہ کیفیت ہے، جو اسے یہ شعور دیتی ہے کہ حقیقی سکون صرف خدا کے قرب میں ہے۔
یہی زندگی کا فلسفہ ہے، جس میں محبت، طلب، اور بےنیازی کے مابین توازن پنہاں ہے۔ انسان اپنی بےنیازی میں جتنا عاجز اور قانع ہوتا ہے، اتنا ہی وہ خدا کی بےنیازی کو سمجھنے کے قریب ہو جاتا ہے۔ یہی وہ راز ہے جو زندگی کو معنویت بخشتا ہے، اور جس میں کائنات کی گہرائی اور خدا کی بےنیاز قدرت کی جھلک نظر آتی ہے۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top