(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
زندگی ایک بہتے دریا کی مانند ہے، جو کبھی پرسکون اور کبھی طوفانی ہوتا ہے۔ اس کا بہاؤ ہمارے اندر کے خیالات، احساسات، اور خوابوں کی ترجمانی کرتا ہے۔ کبھی یہ شفاف ہوتا ہے، جیسے سورج کی کرنوں میں چمکتا ہوا پانی، اور کبھی یہ دھندلا، جیسے بے یقینی کے بادلوں میں لپٹا ہوا۔ لیکن اس دریا میں جو سب سے گہری حقیقت پوشیدہ ہے، وہ ہے بارش—ایک ایسی بارش جو نہ صرف ہمارے ارد گرد کی دنیا کو بلکہ ہمارے اندر کی زمین کو بھی بدل دیتی ہے۔
جب بارش برستی ہے، تو سخت، بنجر زمین نرم ہو جاتی ہے۔ یہی عمل ہمارے اندر بھی ہوتا ہے۔ مشکلات اور آزمائشیں جب زندگی پر برستی ہیں، تو وہ بظاہر ہمیں توڑ دیتی ہیں، مگر اس توڑنے کے عمل میں ہمارے اندر ایک نئی تشکیل شروع ہوتی ہے۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب زندگی ہمیں اپنی جڑوں تک پہنچنے پر مجبور کرتی ہے، اپنی اصل حقیقت کو دریافت کرنے کا موقع دیتی ہے۔
بارش کے بعد زمین کی ساخت بدل جاتی ہے۔ جو خاک پہلے بے کار، سخت اور غیر فعال لگتی تھی، وہ اب نرم اور زرخیز ہو جاتی ہے۔ اسی طرح، مشکلات انسان کے اندر چھپے امکانات کو باہر لاتی ہیں۔ وہ خوف، بے بسی اور ناکامی، جو پہلے کمزوری لگتے تھے، دراصل انسان کو اس کے اندر کی طاقت دکھانے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ یہ آزمائشیں ہمیں اپنی ذات کے اس پہلو سے روشناس کراتی ہیں جو ہمیں خود بھی معلوم نہ تھا۔
زندگی کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ ہر مشکل کے ساتھ تبدیلی آتی ہے۔ وہ تبدیلی جو ہمیں ایک نئی شکل دیتی ہے، ایک نئی طاقت عطا کرتی ہے۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب انسان اپنی اندرونی زمین کو پہچانتا ہے، اس میں نئی تخلیقات کے بیج بوتا ہے، اور ان بیجوں سے ایک نئی زندگی کا آغاز کرتا ہے۔
زندگی کی آزمائشیں ہمیں یہ سکھاتی ہیں کہ مضبوطی کا مطلب صرف سختی نہیں، بلکہ لچک بھی ہے۔ جب ہم بارش کے بعد کی مٹی کی طرح اپنی ذات کو نرم اور قابلِ تشکیل بناتے ہیں، تب ہی ہم اپنی زندگی میں وہ جادو تخلیق کر سکتے ہیں جو نہ صرف ہمارے لیے بلکہ دنیا کے لیے بھی اہم ہے۔
زندگی کا اصل فلسفہ یہی ہے کہ ہر بنجر زمین میں زرخیزی کا امکان موجود ہے، اور ہر آزمائش کے بعد ایک نئی تعمیر کی گنجائش پیدا ہوتی ہے۔ یہ ہماری اپنی نظر پر منحصر ہے کہ ہم ان لمحوں کو کیسے دیکھتے ہیں—بطور ناکامی یا بطور موقع۔ بارش ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ تبدیلی کا عمل ہمیشہ اندر سے شروع ہوتا ہے، اور یہ عمل ہی ہماری اصل کامیابی کی بنیاد بنتا ہے۔
جب ہم اپنی مشکلات کو اپنی طاقت میں بدلنا سیکھ لیتے ہیں، تو ہم وہ نرم اور زرخیز مٹی بن جاتے ہیں، جس میں خوابوں کے بیج اگائے جا سکتے ہیں۔ اور یہی مٹی ہماری زندگی کو ایک نئی شکل دیتی ہے، ہمیں ایک نئی پہچان عطا کرتی ہے۔ زندگی کی حقیقت یہی ہے کہ آزمائشیں ہمیں بہتر بناتی ہیں، مضبوط بناتی ہیں، اور سب سے بڑھ کر ہمیں اپنی اصل تک پہنچاتی ہیں۔
