زندگی کا فلسفہ

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

گرنا، سنبھلنا، اور آگے بڑھنا

زندگی ایک ایسا دریا ہے جس کی لہریں کبھی پر سکون اور کبھی بے قابو ہوتی ہیں۔ ہم، اس دریا میں بہنے والے، کبھی لہروں کے زور پر بہتے ہیں اور کبھی ان کے خلاف تیرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ میرا فلسفہ یہ ہے کہ زندگی کے اس بہاؤ کو قبول کرنا اور اس سے ہم آہنگ ہونا ہی اصل حکمت ہے۔ مشکلات اور ناکامیاں محض وہ پتھر ہیں جو دریا کے بیچ ہمیں رخ بدلنے یا گہرائی کا احساس دینے کے لیے رکھے گئے ہیں۔

میرے نزدیک ناکامی کوئی بدنصیبی نہیں، بلکہ زندگی کی وہ درسگاہ ہے جہاں انسان اپنی اصل شناخت کرتا ہے۔ ہم جیت کی خوشی میں کھو جاتے ہیں، مگر یہ ہار کے لمحے ہیں جو ہمیں اپنے اندر جھانکنے پر مجبور کرتے ہیں۔ یہ ہمیں یہ سمجھاتے ہیں کہ صرف نتائج ہی اہم نہیں، بلکہ وہ سفر اہم ہے جس میں ہم خود کو تلاش کرتے ہیں۔ اس تلاش میں کردار بنتا ہے، ارادے مضبوط ہوتے ہیں، اور وجود میں وہ گہرائی آتی ہے جو کامیابی کے ہلکے خمار سے پیدا نہیں ہو سکتی۔

میرے نزدیک بچوں کی تربیت یا شخصیت سازی کا مطلب یہ نہیں کہ انہیں ہر مشکل سے بچایا جائے یا ان کے راستے سے کانٹے ہٹا دیے جائیں۔ اس کے برعکس، انہیں اس قابل بنایا جائے کہ وہ ان کانٹوں کو اپنے قدموں سے ہٹانے کا حوصلہ پیدا کریں۔ ہم اگر انہیں ہر پل سہارا دیں گے تو وہ کبھی اپنی طاقت کو جان ہی نہیں سکیں گے۔ زندگی کا حسن اسی میں ہے کہ انسان گرے، سنبھلے، اور اپنی شکست سے سیکھ کر بلند ہو۔

میرے اس فلسفے کی بنیاد دو باتوں پر ہے: پہلی یہ کہ انسان کی روح مشکلات میں پکتی ہے، اور دوسری یہ کہ کسی بھی کامیابی کی اصل بنیاد کردار کی مضبوطی ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی کامیابیاں محض ذہانت سے نہیں، بلکہ جذبے، جستجو، اور ثابت قدمی سے حاصل کی گئی ہیں۔ ذہانت ایک دروازہ کھول سکتی ہے، مگر اسے عبور کرنے کا حوصلہ کردار دیتا ہے۔

میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہمیں اپنے بچوں کو یہ سکھانا چاہیے کہ زندگی ہمیشہ ہموار نہیں ہوگی، لیکن یہی اس کا اصل حسن ہے۔ ہمیں انہیں مشکلات سے ڈرنا نہیں بلکہ ان سے سیکھنا سکھانا چاہیے۔ اگر ہم انہیں یہ ہنر دے دیں، تو یہ نہ صرف ان کی زندگی کو بامقصد بنائے گا بلکہ انہیں وہ اطمینان عطا کرے گا جو کسی بھی کامیابی سے بڑھ کر ہے۔

زندگی ایک مسلسل جدوجہد ہے، اور اس جدوجہد کا اصل مقصد صرف منزل تک پہنچنا نہیں، بلکہ راستے کے ہر قدم کو مکمل طور پر جینا، ہر ناکامی کو گلے لگانا، اور ہر مشکل کو ایک استاد سمجھ کر اس سے سیکھنا ہے۔ یہی میرا فلسفہ ہے، اور یہی وہ روشنی ہے جو میں دوسروں کو دینا چاہتا ہوں۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top