(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
تصوف کی نظر میں خدا کا قرب ایک عاشق کا اپنے معشوق کے ساتھ ایسا گہرا تعلق ہے جہاں خودی فنا ہو جاتی ہے اور صرف محبوب کی حقیقت باقی رہ جاتی ہے۔ یہ ایک سفر ہے، دل سے دل تک، جہاں بندہ اپنے نفس اور دنیاوی علائق سے آزاد ہو کر خالق کی حقیقت میں محو ہو جاتا ہے۔
خدا کا قرب کیا ہے؟
خدا کا قرب بندے کا اپنی روح کو اس حقیقت سے ہم آہنگ کرنا ہے جس کا ذکر قرآن میں کیا گیا:
“اور ہم انسان کے دل کے قریب ہیں اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ۔” (سورہ ق: 16)
یہ قرب کوئی فاصلہ طے کرنے سے حاصل نہیں ہوتا، بلکہ دل کے اندر جھانکنے اور حقیقت کی گہرائی میں ڈوبنے سے حاصل ہوتا ہے۔ صوفیا کے نزدیک خدا کا قرب وہ مقام ہے جہاں بندہ خدا کی صفات کو اپنے وجود میں محسوس کرتا ہے اور خدا کی رضا کو اپنی رضا بنا لیتا ہے۔
قربِ خدا کا راستہ:
تصوف کے مراحل
صوفیا نے قربِ الٰہی کو حاصل کرنے کے لیے کئی مراحل مقرر کیے ہیں:
تزکیہ نفس
نفس کو خواہشات اور گناہوں سے پاک کرنا قرب کا پہلا قدم ہے۔ یہ دل کی صفائی ہے، جس کے بغیر روحانیت کی روشنی دل میں نہیں اتر سکتی۔ مولانا روم فرماتے ہیں:
“دل آئینے کی طرح ہے، اسے صاف کرو تاکہ محبوب کی تصویر منعکس ہو سکے۔”
مجاہدہ اور ریاضت
قربِ الٰہی کے لیے دنیاوی علائق اور خواہشات سے جنگ کرنا ضروری ہے۔ مجاہدہ بندے کو خودی کی زنجیروں سے آزاد کرتا ہے اور خدا کی محبت کے لیے دل کو خالی کرتا ہے۔
محبتِ الٰہی
تصوف میں محبت وہ جذبہ ہے جو بندے کو خدا کے قریب لے جاتا ہے۔ یہ وہ شعلہ ہے جو دل میں جلتا ہے اور بندے کو محبوب کے دیدار کے لیے بے تاب کرتا ہے۔ خواجہ فرید الدین عطار فرماتے ہیں:
“محبت وہ آگ ہے جو عاشق کو اس کے نفس کی قید سے آزاد کر دیتی ہے۔”
ذکر اور مراقبہ
اللہ کا ذکر اور مراقبہ قربِ الٰہی کے لیے بنیادی ذرائع ہیں۔ صوفیا ذکر کو دل کی زندگی کہتے ہیں۔ جب بندہ ذکر میں محو ہوتا ہے تو اس کا دل خدا کی روشنی سے منور ہو جاتا ہے۔ حضرت بازید بسطامی فرماتے ہیں:
“جب میں نے اپنے دل سے ‘میں’ کو نکال دیا تو خدا کو وہاں پایا۔”
فنا فی اللہ
قربِ الٰہی کا بلند ترین مقام “فنا” ہے، جہاں بندہ اپنی ذات کو خدا کی ذات میں فنا کر دیتا ہے۔ اس مقام پر بندہ “عبد” سے “محبوب” بن جاتا ہے۔ حضرت جنید بغدادی فرماتے ہیں:
“فنا وہ ہے جہاں بندہ اپنی ہستی کو بھلا کر صرف خدا کو دیکھے۔”
رضا باللہ
قربِ الٰہی کا مطلب یہ ہے کہ بندہ ہر حال میں خدا کی رضا پر راضی ہو جائے، چاہے وہ نعمت ہو یا آزمائش۔ یہ وہ مقام ہے جہاں بندہ شکایت کے بجائے شکر کرتا ہے اور ہر لمحہ خدا کی رضا کے لیے جیتا ہے۔
قربِ الٰہی کی نشانیاں
بندے کا دل دنیاوی محبت سے آزاد ہو جاتا ہے۔
عبادات میں خلوص اور لطف پیدا ہو جاتا ہے۔
بندے کو اپنے ہر حال میں خدا کی موجودگی کا احساس رہتا ہے۔
بندے کی نظر خدا کی صفات اور کائنات کی حقیقت پر گہری ہو جاتی ہے۔
خدا کا قرب تصوف کی روح ہے۔ یہ وہ منزل ہے جہاں بندہ خدا کے عشق میں ایسا گم ہو جاتا ہے کہ اپنی ہستی کو بھول کر خدا کے نور سے منور ہو جاتا ہے۔ یہ قرب دنیاوی فاصلوں کو مٹاتا ہے اور دل کو اُس کے اصل محبوب سے جوڑ دیتا ہے۔ جیسا کہ حضرت علی ہجویریؒ فرماتے ہیں:
“قرب وہ ہے جہاں بندے اور خدا کے درمیان صرف محبت باقی رہ جاتی ہے۔”
