درد کی گہرائی

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

مرد اور عورت کے فطری احساسات کا تجزیہ

زندگی کی حقیقتیں ہمیشہ سادہ نہیں ہوتیں، اور احساسات کی گہرائیاں کبھی بھی سطحی نہیں ہو سکتیں۔ انسان کا دل ایک پیچیدہ منظر نامہ ہے، جہاں دکھ اور سکون، محبت اور غم، خوشی اور غصہ ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ اور یہی احساسات مرد اور عورت کے درمیان بھی مختلف زاویوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ جب ہم مرد اور عورت کے رونے کی فطرت کا تجزیہ کرتے ہیں، تو یہ صرف ان کی جنس کی بات نہیں، بلکہ ایک گہری نفسیاتی اور جذباتی حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے جو ہر فرد کی روح میں بچھا ہوا ہوتا ہے۔
عورت کی فطرت میں رونا ایک ایسا جذباتی عمل ہے جو اس کے وجود کا حصہ ہے۔ وہ روتی ہے کیونکہ اس کی دل کی لطافت اور حساسیت اسے اتنی قوت دیتی ہے کہ وہ اپنے درد کو ظاہر کرے۔ وہ اپنے دکھوں کو آنکھوں کے راستے دنیا کو دکھاتی ہے، کیونکہ اس کی فطرت میں جذبے کی شدت، محبت کی تلاش اور تکلیف کو محسوس کرنے کی صلاحیت ایک بلند مقام پر ہے۔ عورت کے اندر وہ قدرتی گہرائی ہے جو اسے اپنے دکھ کو ظاہر کرنے کی اجازت دیتی ہے، اور اس کی یہ کمزوری دراصل اس کی سب سے بڑی طاقت ہے، کیونکہ اس کے رونے میں ایک ایسی سچائی چھپی ہوتی ہے جو کبھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی۔

دوسری طرف مرد ایک ایسا وجود ہے جو اپنی فطرت میں مختلف ہوتا ہے۔ اس کی نفسیات میں رونا شاید وہ آزادانہ عمل نہیں جو عورت کے لیے ہو، بلکہ یہ اس کے اندر ایک گہری کمزوری کو ظاہر کرتا ہے جس سے وہ بچنے کی کوشش کرتا ہے۔ مرد کے اندر وہ قوت ہوتی ہے کہ وہ اپنے جذبات کو ضبط کرے، لیکن اس ضبط میں ایک ایسا بوجھ بھی چھپا ہوتا ہے جو کبھی نہ کبھی اس کے دل کو توڑ دیتا ہے۔ مرد کبھی اس درد کو آنکھوں کے راستے نہیں بہاتا، وہ اسے دل میں دفن کرتا ہے، لیکن جب وہ درد اس کی برداشت سے باہر ہو جاتا ہے، تو وہ آہستہ آہستہ اس کی آنکھوں میں ظاہر ہوتا ہے۔ اس کی خاموشی میں ایک عالمگیر چیخ چھپی ہوتی ہے، جو کبھی الفاظ کی صورت میں نہیں آتی، لیکن اس کے جسم اور روح پر ایک گہرا اثر ڈالتی ہے۔
لیکن یہاں ایک سوال اٹھتا ہے:
کیا یہ واقعی مرد کی فطرت ہے کہ وہ روتا نہیں ہے، یا یہ محض ایک سماجی دباؤ ہے جس نے مردوں کو اپنے جذبات کا اظہار کرنے سے روک رکھا ہے؟

ہمارے معاشرے میں مردوں کو اجازت نہیں دی جاتی کہ ظاہر کر سکیں کہ وہ بھی درد، غم اور حساسیت رکھتے ہیں۔ ان پر یہ دباؤ ہوتا ہے کہ وہ مضبوط رہیں، کبھی کمزوری نہ دکھائیں۔ اور یہی دباؤ انہیں اپنے اندر چھپی ہوئی حقیقتوں سے دور کر دیتا ہے، جس کی وجہ سے ان کی روح کے زخم کبھی مکمل طور پر ٹھیک نہیں ہوتے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مرد کی فطرت میں قوت اور برداشت ہے، لیکن یہ قوت اس کی اندرونی لڑائی کو اور بھی بڑھا دیتی ہے۔
جہاں تک رونے کی بات ہے، یہ ایک ایسا عمل ہے جو کسی کے بھی اندر کی حقیقت کو اجاگر کرتا ہے۔ رونا صرف ایک جذباتی ردعمل نہیں، بلکہ یہ انسان کے دل کی گہرائی میں چھپی ہوئی کیفیتوں کی عکاسی ہے۔ جب انسان روتا ہے، تو وہ اپنے اندر کی کمزوری کو تسلیم کرتا ہے، اور یہ تسلیم کرنا ایک طاقتور عمل ہوتا ہے۔ یہ کوئی کمزوری نہیں، بلکہ اپنے درد کو قبول کرنے اور اس کے ساتھ جینے کی قوت ہے۔

اسی طرح، مرد اور عورت کے رونے کی کہانی میں ایک گہرا راز چھپا ہوا ہے۔ عورت کا رونا اس کی فطرت کا حصہ ہے اور اس کی مضبوطی کو ظاہر کرتا ہے، جب کہ مرد کا رونا اس کی روح کی گہری لڑائی کو بے نقاب کرتا ہے۔ دونوں کا رونا ایک مقدس حقیقت ہے، جو ان کی ذات کی گہرائی کو اجاگر کرتا ہے۔ اس لیے، مرد اور عورت کے درمیان اس فرق کو سمجھنا ضروری ہے، تاکہ ہم ان کی نفسیاتی حقیقت کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔

آخرکار، رونا یا نہ رونا، یہ ایک فرد کی اندرونی کیفیت کی عکاسی ہے۔ یہ فطری احساسات ہیں جو انسان کے جذباتی سفر کا حصہ ہیں، اور ان کا اظہار کرنا کبھی بھی کمزوری نہیں، بلکہ حقیقت کی پہچان ہے۔ انسان، چاہے وہ مرد ہو یا عورت، جب اپنے درد کو تسلیم کرتا ہے اور اسے باہر نکالتا ہے، تو وہ اپنے اندر کی حقیقی طاقت کو دریافت کرتا ہے۔ اور یہی طاقت ہی انسان کو حقیقت کے قریب لے جاتی ہے۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top