محبت اور خدا

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

انسانی زندگی ایک پیچیدہ اور نازک توازن پر قائم ہے۔ یہ توازن نہ صرف مادی ضروریات کی تکمیل پر منحصر ہے، بلکہ روحانی، جذباتی اور اخلاقی پہلوؤں پر بھی اس کی بنیاد ہے۔ اگرچہ انسان کا جسمانی وجود کھانے پینے اور جسمانی آرام کے بغیر نہیں چل سکتا، لیکن اس کی روح، جو اصل میں اس کے وجود کی حقیقت ہے، صرف محبت اور تعلقات سے زندہ رہتی ہے۔ یہی وہ راز ہے جسے سمجھنے کی کوشش میں انسان نے اپنی زندگی کو جلا بخشی ہے۔

پہلے انسانوں نے یہ سمجھا کہ زندگی کا مقصد صرف جینا ہے، مگر جیسے جیسے انسان نے اپنی روحانی گہرائیوں کو پہچانا، یہ واضح ہوا کہ زندگی کا مقصد صرف جینا نہیں، بلکہ محبت کے ساتھ جینا ہے۔ یہی وہ مقصد ہے جس کے لئے انسان کا روحانی سفر ہے۔ انسانوں کے درمیان محبت کی جڑیں اتنی گہری ہیں کہ یہ نہ صرف فرد کے تعلقات کو مستحکم کرتی ہیں بلکہ یہ پورے معاشرتی ڈھانچے کی بنیاد بن جاتی ہے۔ زندگی کے اس سچے مقصد کو سمجھنا اور اس پر عمل کرنا انسان کو ایک نئی روحانیت اور ایک نئی حقیقت سے ہم آہنگ کرتا ہے۔

محبت کی اہمیت اس قدر ہے کہ اس کا تعلق خدا سے ہے۔ خدا کو ہمیشہ کسی نظر سے نہیں دیکھا جاتا، مگر حقیقت یہ ہے کہ جہاں محبت ہوتی ہے، وہاں خدا کی موجودگی بھی ہوتی ہے۔ خدا نے انسان کو یہ نہیں بتایا کہ اسے کیا چاہیے، بلکہ اس نے یہ بتایا ہے کہ دوسروں کو کیا چاہیے۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ خدا کا اصل پیغام انسانوں میں محبت کے جذبات پیدا کرنا اور ان کو ایک دوسرے کے ساتھ نیک نیتی سے جینے کی ترغیب دینا ہے۔ خدا کی محبت انسان کی روح میں سماتی ہے، اور یہ محبت ہی ہے جو انسان کو اس کے اصل مقصد تک پہنچاتی ہے۔
محبت ہی وہ لڑی ہے جو انسانوں کو آپس میں جوڑتی ہے، اور خدا اور انسان کے درمیان ایک براہ راست تعلق قائم کرتی ہے۔ اگرچہ ہم خدا کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھ سکتے، لیکن محبت کے جذبات اور اس کی موجودگی کا احساس ہر جگہ پایا جا سکتا ہے۔ جب انسان دوسرے انسانوں کے ساتھ محبت اور ہمدردی سے پیش آتا ہے، تو وہ گویا خدا کی رضا اور خوشی کی طرف بڑھ رہا ہوتا ہے۔ محبت کی یہ کیفیت اتنی طاقتور ہوتی ہے کہ یہ انسان کی روح کو پاکیزہ بنا دیتی ہے اور اس کی زندگی میں سکون اور امن لے آتی ہے۔

اگر ہم محبت کی حقیقت کو سمجھیں، تو یہ ایک ایسا جذبہ نہیں ہے جو صرف انسانوں کے درمیان ہو، بلکہ یہ ایک ایسی قوت ہے جو کائنات کے ہر گوشے میں موجود ہے۔ خدا اور محبت ایک ہی حقیقت ہیں؛ خدا محبت ہے اور محبت ہی خدا ہے۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کو انسانوں نے ہمیشہ اپنے عمل سے تسلیم کیا ہے، چاہے وہ مذہبی متون ہوں یا انسانی تاریخ کی گواہیاں۔ جب انسان محبت کے راستے پر چلتا ہے، وہ دراصل خدا کے قریب پہنچتا ہے، کیونکہ محبت خدا کا اصل پیغام ہے۔

محبت کی طاقت کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ یہ انسان کو اس کی اپنی حقیقت سے متعارف کراتی ہے۔ جب انسان محبت میں ڈوبتا ہے، تو وہ اپنی کمزوریوں کو تسلیم کرتا ہے اور اپنی ذات کے پیچیدہ حصوں کو سچائی سے پہچانتا ہے۔ اس سے انسان کی روح کی صفائی ہوتی ہے اور وہ اپنے وجود کو بہتر طور پر سمجھنے لگتا ہے۔ اس محبت میں انسان کی حقیقت اور خدا کا وجود دونوں کو پہچانا جا سکتا ہے۔

آخرکار، محبت ایک ایسی قوت ہے جو نہ صرف انسانوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط کرتی ہے بلکہ یہ خدا کے ساتھ انسان کے تعلق کو بھی زندہ رکھتی ہے۔ جب انسان محبت کے راستے پر چلتا ہے، وہ نہ صرف اپنے اندر کی حقیقت کو پہچانتا ہے بلکہ وہ خدا کی رضا کی طرف بھی بڑھتا ہے۔ محبت اور خدا کا رشتہ اتنا مضبوط اور گہرا ہے کہ ان دونوں کے بغیر انسان کی روح کا سفر مکمل نہیں ہو سکتا۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے ہر انسان کو سمجھنا اور اپنانا ضروری ہے۔

محبت اور خدا کے درمیان یہ تعلق نہ صرف ایک فلسفیانہ حقیقت ہے بلکہ ایک عملی زندگی کا اصول ہے۔ جب انسان محبت کو اپنی زندگی کا حصہ بناتا ہے، تو وہ نہ صرف دنیا میں سکون پاتا ہے بلکہ وہ خدا کے قریب بھی پہنچتا ہے۔ یہی محبت ہی ہے جو انسان کی حقیقی قوت، سکون اور روحانی کامیابی کا راز ہے۔ اس محبت کے ذریعے انسان اپنے اندر کی گہرائیوں کو دریافت کرتا ہے اور خدا کی موجودگی کو اپنے دل میں محسوس کرتا ہے۔

اس لیے، محبت انسان کی زندگی کا مرکز ہے۔ یہ نہ صرف اس کی روحانی اور جذباتی کامیابی کا دروازہ کھولتی ہے بلکہ اسے خدا کے قریب بھی لے آتی ہے۔ زندگی کا اصل مقصد صرف جینا نہیں، بلکہ محبت کے ساتھ جینا ہے، کیونکہ محبت ہی انسان کو اپنی حقیقت سے، خدا سے اور کائنات سے جوڑنے والی سب سے بڑی طاقت ہے۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top