عورت

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

قربانی، وفا، حوصلے اور جرات کی مجسم تصویر

دنیا کی تاریخ، معاشرت اور تہذیب کا مطالعہ کریں تو یہ حقیقت ہر دور میں سامنے آتی ہے کہ عورت محض محبت، وفا اور قربانی کی علامت ہی نہیں بلکہ جرات، حوصلے، اور عقل و دانش کا ایک ایسا پیکر ہے جس نے ہر آزمائش میں اپنے کردار سے معاشرے کو نئی راہیں دکھائیں۔ عورت اپنے جذبات، خواہشات اور آرزوؤں کو پسِ پشت ڈال کر، مشکل حالات میں اپنے خاندان اور معاشرے کے لیے قربانی کا وہ ناقابل تسخیر کردار ادا کرتی ہے جسے الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔

قربانی عورت کی پہچان
عورت کی قربانی کا سب سے بڑا امتحان شادی کے بندھن میں نظر آتا ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جب وہ اپنے ماں باپ، بہن بھائیوں، دوستوں اور اپنے بچپن کی یادوں کو ترک کر کے ایک نئے سفر پر روانہ ہوتی ہے۔ وہ ایک بیٹی سے بہو اور بیوی کا روپ دھار کر، اپنی ذات کو مکمل طور پر ایک نئے خاندان کے لیے وقف کر دیتی ہے۔ یہ قربانی نہ صرف محبت اور وفا کا اظہار ہے بلکہ عورت کی بے مثال جرات کی دلیل بھی ہے۔

ماں بننے کے بعد یہ قربانی ایک نئے انداز میں نظر آتی ہے۔ عورت اپنی خواہشات کا گلا گھونٹ کر، اپنی نیند اور سکون کو قربان کر کے، اپنے بچوں کے خوابوں کی تعبیر کے لیے اپنی زندگی کا ہر لمحہ صرف کر دیتی ہے۔ ماں کے روپ میں وہ ایک بے لوث ہستی بن جاتی ہے جو اپنی تمام خوشیوں کو بچوں کی خوشیوں کے لیے قربان کر دیتی ہے۔
جرات اور حوصلہ
عورت کی جرات اور حوصلہ ان لمحات میں عیاں ہوتا ہے جب حالات سخت ہوں، مالی مسائل سر پر منڈلا رہے ہوں، یا کسی عزیز کی بیماری کا سامنا ہو۔ یہ عورت ہی ہے جو ان مشکل حالات میں اپنے خاندان کے لیے ناقابل تسخیر دیوار بن کر کھڑی ہو جاتی ہے۔ والدین یا شوہر کی بیماری میں وہ اپنے آرام کو ترک کر کے دن رات ان کی خدمت کرتی ہے، ان کے چہرے پر سکون لانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتی ہے۔ اسی طرح، مالی حالات کے بگڑنے پر عورت اپنے شوہر کا سہارا بن کر اس کے حوصلے کو بڑھاتی ہے، اپنے کردار سے یہ یقین دلاتی ہے کہ یہ مشکل وقت جلد ختم ہو جائے گا۔

عورت کا خدا سے گہرا تعلق اس کی سب سے بڑی طاقت بن جاتا ہے۔ وہ قربانی کرنے والی ایک مقبول بندی کے طور پر اپنی دعاؤں کے ذریعے اپنے پیاروں کے دکھ درد کو کم کرنے کی کوشش کرتی ہے اور ان کی تقدیر بدلنے کے لیے خدا سے رجوع کرتی ہے۔ رات کے سجدے میں وہ گڑگڑاتی ہے، اپنے پیاروں کی صحت، خوشحالی اور کامیابی کے لیے دعا کرتی ہے، اور یہ یقین رکھتی ہے کہ اس کی دعائیں اس کے خاندان کے لیے ہر مشکل کو آسان بنا دیں گی۔

عقل و دانش
عورت صرف قربانی اور محبت کی علامت نہیں بلکہ ایک عقل مند اور دور اندیش ہستی بھی ہے۔ وہ گھر کے معاملات سے لے کر بچوں کی تربیت تک، ہر جگہ اپنی دانش کا مظاہرہ کرتی ہے۔ زندگی کے بڑے فیصلوں میں عورت کی دور اندیشی خاندان کو کامیابی کے راستے پر گامزن کرتی ہے۔ اس کی عقل و دانش صرف مسائل کا حل ہی نہیں تلاش کرتی بلکہ اس کے خاندان کی ترقی کی بنیاد رکھتی ہے۔

خدا سے تعلق
مشکل وقت میں عورت کا خدا سے تعلق مضبوط ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے حوصلے اور دعاؤں کے ذریعے نہ صرف اپنے گھر کے سکون کو بحال رکھتی ہے بلکہ اپنے پیاروں کی تقدیر بدلنے کی دعا کرتی ہے۔ اس کی قربانیاں اسے خدا کی بارگاہ میں مقبول بناتی ہیں، اور اس کا یہی ایمان اسے آزمائشوں میں مضبوط بناتا ہے۔

محبت، قربانی اور حوصلے کی تصویر
یہ عورت ہی ہے جو محبت، قربانی، وفا، جرات، اور حوصلے کا امتزاج ہے۔ اس کی قربانیاں نہ صرف اس کے خاندان بلکہ پورے معاشرے کے لیے باعثِ فخر ہیں۔ ہمیں عورت کی ان عظیم خصوصیات کو تسلیم کرنا ہوگا اور اس کے کردار کو خراج تحسین پیش کرنا ہوگا۔

عورت واقعی محبت، قربانی، اور خدا سے تعلق کی ایک جیتی جاگتی تصویر ہے۔ اس کی موجودگی ہماری زندگی کو خوبصورتی اور استحکام بخشتی ہے۔ اگر ہم ایک بہتر معاشرہ تشکیل دینا چاہتے ہیں تو ہمیں عورت کی عظمت کو پہچاننا ہوگا، کیونکہ یہ دنیا عورت کے بغیر کبھی مکمل نہیں ہو سکتی۔
عورت کو سلام، اس کی قربانیوں اور جرات کو خراج تحسین، اور اس کی عظمت کو سرخروئی کا تاج!

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top