مکالمہ اہلِ علم سے اور اختلاف اہلِ ظرف سے

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

انسانی معاشرت کی بنیاد گفتگو اور خیالات کے تبادلے پر قائم ہے۔ انسان اپنے نظریات، علم، اور تجربات کے ذریعے دوسروں کے ساتھ جُڑتا ہے اور ایک دوسرے سے سیکھتا ہے۔ لیکن مکالمے اور اختلاف کے درمیان ایک باریک مگر انتہائی اہم فرق ہے، جو معاشرتی توازن اور ذہنی بالیدگی کے لیے ضروری ہے۔ اس فرق کو سمجھنا اور اپنانا ایک مہذب اور دانشمند انسان کی نشانی ہے۔

مکالمہ اہلِ علم سے کیوں؟
مکالمہ ایک ایسا عمل ہے جس میں سوال و جواب، دلائل، اور حکمت کے ذریعے علم کا تبادلہ ہوتا ہے۔ یہ صرف معلومات کی منتقلی نہیں بلکہ فکری وسعت اور شعور کی بیداری کا ذریعہ ہے۔ مکالمہ تبھی ممکن ہے جب دونوں فریق علم، فہم اور تحمل سے آراستہ ہوں۔

اہلِ علم کے ساتھ مکالمہ اس لیے ضروری ہے کیونکہ وہ اپنی دانش، مطالعے، اور تجربات کے ذریعے نہ صرف دوسروں کو سکھاتے ہیں بلکہ خود بھی سیکھنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ وہ مکالمے کو ایک جنگ کے بجائے ایک تعمیراتی عمل سمجھتے ہیں۔ اہلِ علم کی صحبت میں مکالمہ آپ کی سوچ کو نئی جہتیں دیتا ہے اور آپ کے نظریات کو پختگی عطا کرتا ہے۔ یہ مکالمہ محض علمی نہیں بلکہ اخلاقی بنیادوں پر بھی استوار ہوتا ہے، جہاں فریقین ایک دوسرے کی رائے کو سننے اور سمجھنے کے لیے تیار ہوتے ہیں۔

اختلاف اہلِ ظرف سے کیوں؟
اختلاف زندگی کی ایک اٹل حقیقت ہے۔ ہر شخص کی سوچ، نظریات، اور تجربات مختلف ہوتے ہیں، اور یہی تنوع زندگی کو خوبصورت اور متوازن بناتا ہے۔ لیکن اختلاف تبھی مثبت اور تعمیری ہو سکتا ہے جب دونوں فریق ظرف، تحمل، اور ادب سے مزین ہوں۔
اہلِ ظرف وہ ہیں جو اختلاف کے باوجود عزت و احترام کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے۔ وہ دلائل سے اختلاف کرتے ہیں، نہ کہ شخصیات سے۔ ان کا اختلاف گالی، نفرت، یا ضد پر مبنی نہیں ہوتا بلکہ فکری وسعت اور سچائی کی جستجو کا عکاس ہوتا ہے۔ اہلِ ظرف کے ساتھ اختلاف انسان کو نئے زاویے سے سوچنے پر مجبور کرتا ہے اور اس کے شعور میں وسعت لاتا ہے۔

مکالمہ اور اختلاف کے درمیان فرق کی اہمیت
یہ نقطہ سمجھنا ضروری ہے کہ مکالمہ اور اختلاف دو الگ رویے ہیں، اور ان دونوں کا مقام اور طریقہ مختلف ہے۔ مکالمہ وہاں کیا جاتا ہے جہاں علم اور حکمت موجود ہو، اور اختلاف وہاں کیا جاتا ہے جہاں ظرف اور برداشت موجود ہو۔ اگر مکالمہ اہلِ علم کے ساتھ نہ کیا جائے تو علم زوال پذیر ہو جاتا ہے، اور اگر اختلاف اہلِ ظرف کے ساتھ نہ کیا جائے تو اختلاف دشمنی میں بدل جاتا ہے۔
اہلِ علم کے بغیر مکالمہ بے معنی ہو جاتا ہے کیونکہ ان کے بغیر گفتگو کا مقصد محض جذباتی بحث بن جاتا ہے۔ اسی طرح، اگر اہلِ ظرف کے بغیر اختلاف کیا جائے تو یہ نفرت، تلخی، اور رنجش کا باعث بنتا ہے۔ مکالمہ اور اختلاف دونوں میں ادب اور تحمل کا عنصر لازمی ہے، کیونکہ یہی عناصر معاشرتی امن اور شعوری ترقی کی ضمانت ہیں۔

معاشرتی تناظر
آج کے دور میں، جہاں سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع سے خیالات کا تبادلہ ہر لمحہ ہو رہا ہے، مکالمے اور اختلاف کے درمیان فرق کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ بدقسمتی سے، مکالمہ اکثر جذباتی بحث اور اختلاف ذاتی حملوں کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ نہ تو علم کی ترویج ہو پاتی ہے اور نہ ہی اختلاف سے کوئی مثبت نتیجہ نکلتا ہے۔
ہمیں یہ سیکھنا ہوگا کہ مکالمہ وہاں کریں جہاں علم اور دلیل کا احترام ہو، اور اختلاف وہاں کریں جہاں برداشت اور ادب کا مظاہرہ کیا جا سکے۔ اہلِ علم اور اہلِ ظرف کی پہچان اور ان کے ساتھ تعلق کا صحیح شعور ہی ہمیں ایک بہتر معاشرتی ماحول فراہم کر سکتا ہے۔

الغرض مکالمہ اور اختلاف زندگی کے وہ دو پہلو ہیں جو انسان کی فکری اور اخلاقی ترقی کے لیے لازم ہیں، لیکن ان کا صحیح استعمال انسان کی دانشمندی پر منحصر ہے۔ مکالمہ ہمیشہ اہلِ علم سے کیا جاتا ہے، کیونکہ علم اور حکمت کے بغیر گفتگو ایک لاحاصل عمل بن جاتی ہے۔ اسی طرح، اختلاف اہلِ ظرف سے کیا جاتا ہے، کیونکہ برداشت اور تحمل کے بغیر اختلاف نفرت اور بدگمانی پیدا کرتا ہے۔

اگر ہم اس اصول کو اپنی زندگی میں اپنائیں تو نہ صرف ہماری شخصیت میں نکھار آئے گا بلکہ ہمارا معاشرہ بھی علم، برداشت، اور احترام کی بنیاد پر ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا۔ یہی ایک مہذب اور دانشمند معاشرے کی بنیاد ہے، اور یہی وہ راہ ہے جو ہمیں ایک بہتر انسان اور ایک بہتر معاشرہ بننے کی طرف لے جا سکتی ہے۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top