(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
(ایک وجودی مکالمہ)
زندگی ایک سفر ہے، جس کا ہر موڑ ہمیں ذات کے آئینے میں جھانکنے پر مجبور کرتا ہے۔ انسان چاہے جتنا بھی دور نکل جائے، ایک ایسا دائرہ ہمیشہ موجود رہتا ہے جس سے فرار ممکن نہیں۔ یہ دائرہ صرف جسمانی نہیں بلکہ فکری، جذباتی اور روحانی سطح پر بھی ہمیں گھیرے رکھتا ہے۔ ہماری سوچ، عقائد، اور تجربات اس دائرے کی سرحدیں ہیں جنہیں عبور کرنا اکثر ناممکن سا لگتا ہے۔
ہم ہمیشہ اپنی ذات کی قید سے آزاد ہونے کی خواہش رکھتے ہیں، لیکن یہ قید ایک عجیب دوہری حقیقت پیش کرتی ہے۔ یہ ہمیں محدود بھی کرتی ہے اور تحفظ بھی دیتی ہے۔ ایک طرف یہ ہماری شناخت کا حصہ بنتی ہے، تو دوسری طرف ہماری پرواز کو روکنے کی کوشش کرتی ہے۔ یہی داخلی کشمکش وجودی مسئلے کی بنیاد ہے۔
زندگی کی سب سے بڑی سچائی یہ ہے کہ مکمل آزادی ایک فریب ہے۔ لیکن کیا یہ جان لینے کے بعد ہمیں رک جانا چاہیے؟ نہیں۔ انسانی روح کی خوبصورتی اسی میں ہے کہ وہ محدودیت کو تسلیم کرنے کے باوجود اس کے پار دیکھنے کی خواہش رکھتی ہے۔ یہی خواہش ہمیں ارتقاء کی راہ پر گامزن کرتی ہے۔
ہمیں چاہیے کہ اپنی ذات کی حدود کو تسلیم کریں، لیکن انہیں جامد نہ مانیں۔ زندگی کا حسن اسی میں ہے کہ ہم ان دائروں کے اندر رہتے ہوئے بھی وسعت کا خواب دیکھیں اور اپنی سوچ کو نئی سرحدوں تک لے جائیں۔ ہمیں ان دائروں کے اندر رہ کر ایسا مکالمہ قائم کرنا چاہیے جو ہمیں نہ صرف اپنی ذات سے ہم آہنگ کرے بلکہ کائنات کے بے کراں امکانات سے بھی جوڑ دے۔
زندگی کے اس دائرے میں کوئی اختتام نہیں۔ ہر لمحہ ایک نئی ابتدا ہے۔ ہر حد ایک نئی راہ کا اشارہ ہے۔ ہمیں اپنے وجود کے ان دائروں کو قید نہیں، بلکہ ایک رہنما سمجھنا چاہیے جو ہمیں اس سفر میں خود سے روشناس کراتے ہیں۔ حقیقی آزادی کا مطلب حدود سے نکلنا نہیں بلکہ ان کے اندر رہتے ہوئے اپنی ذات کی گہرائی کو دریافت کرنا ہے۔
