(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
زندگی اپنی تمام تر پیچیدگیوں کے ساتھ فائدے اور نقصانات کے ازلی تضاد میں گِھری ہوئی ہے۔ جو چیز بظاہر مفید دکھائی دیتی ہے، وہ اکثر اپنے اندر پوشیدہ نقصانات رکھتی ہے۔ اس فطری حقیقت کو سمجھنا اور اس کے ساتھ ہم آہنگ رہنا ہی انسانی شعور کی معراج ہے۔ فائدے کی سطحی چمک سے آگے دیکھنے کی صلاحیت دراصل فکری بلوغت کا نشان ہے۔
ہر فائدہ درحقیقت قربانی، ذمہ داری یا کسی نوعیت کے نقصان کا متقاضی ہوتا ہے۔ معاشرتی ترقی کو ہی لیجیے، یہ انسان کے لیے علم، ٹیکنالوجی اور معاشی خوشحالی کا باعث بنی، مگر اس کے ساتھ ماحول کی بربادی، انسانی رشتوں کی بے قدری اور اخلاقی زوال بھی لے آئی۔ آج کا انسان بظاہر ترقی یافتہ ہے، لیکن وہ سکون و طمانیت کے لیے ترستا ہوا نظر آتا ہے۔
مولانا رومؒ فرماتے ہیں:
پھل دار درخت ہمیشہ جھکتا ہے، مگر ہر شاخ پھل کی بھاری قیمت ادا کرتی ہے۔
جب ہم کسی فائدے کی خواہش کرتے ہیں تو اس کے حصول میں چھپی قیمت کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔ طاقت کا حصول بظاہر خوش آئند ہے، مگر یہ انسان کو غرور، آزمائشوں اور نفرت کی دلدل میں دھکیل سکتا ہے۔ دولت، جو ظاہری طور پر زندگی کو آسان بناتی ہے، اکثر حسد، تنہائی اور بے سکونی کا باعث بنتی ہے۔
انسان کی سب سے بڑی کمزوری یہی ہے کہ وہ فائدے کی وقتی چمک میں اس کے ممکنہ نقصانات کو فراموش کر دیتا ہے۔ معاشرتی تعلقات میں یہی حقیقت اور زیادہ واضح ہوتی ہے.
دوستی، محبت اور خاندانی رشتے بظاہر خوشی کا باعث بنتے ہیں، مگر ان میں وقت، برداشت اور قربانی کی قیمت شامل ہوتی ہے۔
روحانی اعتبار سے، فائدے اور نقصان کا یہی توازن صوفیانہ تعلیمات کا بنیادی محور ہے۔ صوفیاء فرماتے ہیں کہ جب انسان صرف فوائد کا خواہاں ہوتا ہے، تو وہ دنیا کے دام میں گرفتار ہو جاتا ہے۔ حقیقی فائدہ وہ ہے جو روح کو سکون اور دل کو قناعت عطا کرے، چاہے اس کے بدلے دنیاوی نقصان ہی کیوں نہ اٹھانا پڑے۔
قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
عَسَى أَن تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ وَعَسَى أَن تُحِبُّوا شَيْئًا وَهُوَ شَرٌّ لَّكُمْ
(سورۃ البقرہ: 216)
“ہو سکتا ہے تم کسی چیز کو برا سمجھو جبکہ وہ تمہارے لیے بہتر ہو، اور ہو سکتا ہے کہ تم کسی چیز کو پسند کرو جبکہ وہ تمہارے لیے نقصان دہ ہو۔”
یہ آیت ہمیں زندگی کی پیچیدگیوں کو سمجھنے کی دعوت دیتی ہے کہ ہر فائدہ ہمیشہ مثبت نہیں ہوتا اور ہر نقصان ہمیشہ منفی نہیں ہوتا۔
انسانی فطرت کو چاہیے کہ وہ فائدے کی چمک کے پیچھے نہ بھاگے بلکہ اس کے ممکنہ نقصانات کو پرکھنے کا شعور پیدا کرے۔ یہی توازن انسان کو بہتر فیصلے کرنے کے قابل بناتا ہے۔ فائدہ اسی وقت فائدہ ہے جب وہ اخلاقی، روحانی اور معاشرتی توازن کو بگڑنے نہ دے۔ بصورت دیگر، یہ چمکتا ہوا جال بن جاتا ہے جس میں انسان اپنی حقیقت کھو دیتا ہے۔
