بکھرے ہوئے پتے

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

رات کے دامن میں ایک راز پوشیدہ تھا، ایک داستان جو خاموشی کے لمس میں لکھی گئی تھی۔ ہوائیں جب نیند کے جھولے میں تھیں، درختوں نے اپنے کچھ حصے زمین کے سپرد کر دیے۔ شاید یہ کوئی سمجھوتہ تھا، یا شاید ایک انجانی جدائی، جسے صرف وہی محسوس کر سکتے تھے جو زندگی کے اسرار کو کھوجنے کی ہمت رکھتے ہیں۔

فٹ پاتھ پر بکھرے ہوئے پتے گزرنے والوں کے قدموں تلے دب کر سرگوشیاں کر رہے تھے۔ وہ چیخ نہ سکے، شور نہ کر سکے، بس دھیرے دھیرے خاک میں تحلیل ہونے کا انتظار کر رہے تھے۔ کل تک یہ فضاؤں میں جھومتے تھے، ہوا کے دوش پر سفر کرتے تھے، روشنی کی آغوش میں سانس لیتے تھے۔ مگر آج وہی روشنی ان پر رکنے کے بجائے، انہیں نظرانداز کرکے بے نیازی سے گزر رہی تھی۔

کیا یہ مقدر تھا؟ یا محض ایک لمحاتی اتفاق؟ کیا درختوں نے انہیں خود چھوڑا تھا، یا ہوا نے انہیں بے رحم انداز میں توڑ کر نیچے گرا دیا تھا؟ شاید یہ وہی فلسفہ تھا جو انسان کی زندگی پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ ہم سب کبھی کسی نہ کسی شاخ سے جُڑے ہوتے ہیں، کسی مرکز کے گرد گردش کرتے ہیں، اور پھر ایک دن، ایک جھونکا ہمیں زمین پر لے آتا ہے—جہاں ہم ایک بکھرے ہوئے پتے کی طرح، وقت کی ٹھوکروں میں اپنی پہچان کھو دیتے ہیں۔

مگر شاید حقیقت اس سے بھی گہری ہو۔ شاید زمین پر گرنا انجام نہیں، بلکہ ایک نئی ابتدا ہو۔ جس خاک میں یہ پتے جذب ہوں گے، وہی کسی نئے درخت کی جڑوں کو غذا دے گی۔ شاید فنا، حقیقت میں بقا کی سب سے خاموش صورت ہے۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top