(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
اگر تم میری تکلیفوں پر بھی قابض ہو جاؤ، تب بھی میں اپنی راکھ سے خود کو نئے وجود میں ڈھال لوں گا۔
یہ محض ایک جملہ نہیں، بلکہ بغاوت کی ایک صدا ہے—ایک اعلان کہ انسان اپنی تکلیفوں کا غلام نہیں، بلکہ انہی کی خاک سے اپنی نئی شناخت تراشنے والا مجسمہ گر ہے۔ جب زندگی کے زخم گہرے ہوتے ہیں، تو وہ محض اذیت نہیں دیتے، بلکہ ایک نئی تخلیق کی بنیاد رکھتے ہیں۔
درد محض ایک زخم نہیں، بلکہ ایک شعلہ ہے، جو جب انسان کے باطن میں دہکتا ہے، تو اس کی پرانی کمزوریوں کو جلا کر راکھ کر دیتا ہے اور اس راکھ سے ایک نیا انسان جنم لیتا ہے۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب آزمائشیں ایک انسان کو یا تو توڑ دیتی ہیں یا پھر اسے اپنی سب سے مکمل اور ناقابلِ تسخیر شکل میں ڈھال دیتی ہیں۔
زمین میں دبا بیج جب اپنی ذات کا خول توڑ کر باہر نکلتا ہے، تو وہ صرف روشنی کی طرف سفر نہیں کرتا، بلکہ اپنے ہونے کی ایک نئی پہچان تلاش کرتا ہے۔ یہی انسان کی کہانی ہے—جو زندگی کے زخم سہہ کر، اپنے درد کی کوکھ سے جنم لیتا ہے، وہ محض زندہ نہیں رہتا، بلکہ ایک نئی تقدیر لکھنے والا معمار بن جاتا ہے۔
یہی تکلیفوں کا سب سے بڑا راز ہے: جو تمہیں توڑ نہیں سکتیں، وہ تمہیں بنا دیتی ہیں۔ جو درد تمہیں بےحال کرتا ہے، وہی تمہارے اندر وہ روشنی پیدا کرتا ہے جس سے تم اپنی قسمت کو خود تراشنے لگتے ہو۔
جب انسان اپنی تکلیفوں کے بوجھ تلے دبنے کے بجائے، انہیں اپنے شعور کی تلوار سے تراشنا سیکھ لیتا ہے، تو وہ خود کا خالق بن جاتا ہے۔ وہ اپنی پرانی پہچان کو مٹا کر، اپنے زخموں کی راکھ سے ایک نئی شناخت تخلیق کرتا ہے۔ وہ ہر روز، ہر درد کے ساتھ، ایک نیا انسان بننے کا ہنر سیکھتا ہے—ایک ایسا انسان جو پہلے والے سے زیادہ مضبوط، زیادہ باشعور، اور زیادہ آزاد ہوتا ہے۔
یہی زندگی کا سب سے بڑا معجزہ ہے: انسان کے اندر، ہر تکلیف کے بعد، ایک نیا انسان چھپا ہوتا ہے جو بس ایک لمحے کے انتظار میں ہوتا ہے—جنم لینے کے لیے۔
