(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
انسان وقت کے دھارے میں آگے بڑھتا ہے، مگر کچھ لمحے اس کے وجود میں قید ہو جاتے ہیں۔ یہ لمحے ماضی کے نہیں ہوتے، یہ حال میں گھل کر خون کی طرح رگوں میں دوڑنے لگتے ہیں۔ پچھتاوا دراصل وقت کی قید سے آزاد ایک ایسا سایہ ہے، جو ہمیشہ ساتھ رہتا ہے—کبھی دھوپ میں لمبا، کبھی اندھیرے میں مدھم، مگر کبھی غائب نہیں ہوتا۔
انسان اپنی خطاؤں کو پیٹھ پیچھے چھوڑ کر چلنا چاہتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ ماضی کی زنجیریں پیروں میں نہیں، روح میں پڑتی ہیں۔ جو قدم ہم پیچھے چھوڑ آئے، وہ ہمارے پیچھے نہیں رہتے—وہ آگے بڑھ کر ہمارے راستے میں کھڑے ہو جاتے ہیں، ہر نئے موڑ پر، ہر نئی راہ کے دہانے پر۔
یہی پچھتاوے کی سب سے بڑی ستم ظریفی ہے: یہ ہمیں آگے بڑھنے نہیں دیتا، اور پیچھے پلٹنے کا اختیار بھی چھین لیتا ہے۔ ہم اپنی یادوں کے زندان میں قیدی بن کر رہ جاتے ہیں، جہاں ہر دروازہ ہمارے اپنے ہاتھوں سے بند کیا گیا ہوتا ہے، اور ہر چابی اسی لمحے گم ہو چکی ہوتی ہے، جب ہم نے پہلی بار کہا تھا—”کاش میں نے ایسا نہ کیا ہوتا!”
مگر شاید سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ پچھتاوا ہمیں جکڑ لیتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ ہم خود اس قید کو چھوڑنا نہیں چاہتے۔ ہم بار بار اسی زخم کو چھوتے ہیں، بار بار اسی اندھیرے میں جھانکتے ہیں، اور بار بار اپنے ہی بنائے ہوئے قفس میں لوٹ آتے ہیں—شاید اس امید میں کہ اگر ہم اسے کافی دیر تک دیکھیں، تو یہ ماضی کا حصہ بن جائے گا۔ مگر نہیں، کچھ سائے وقت سے ماورا ہوتے ہیں۔
اور پچھتاوا—یہ وہ زنجیر ہے جسے ہم خود کاٹ سکتے ہیں، مگر اکثر ایسا کرنے سے ڈرتے ہیں۔ کیونکہ اگر ہم ان زنجیروں کو توڑ دیں، تو پھر ہمیں خود سے سوال کرنا پڑے گا: اگر یہ زخم میری پہچان نہ رہے، تو میں کون ہوں؟
