زخموں کا رہزن

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

اگر تم میری تکلیفوں پر بھی قابض ہو جاؤ، تو میں وہ نہیں رہوں گا جو تھا۔ میں ایک کھویا ہوا سایہ بن جاؤں گا، کسی بھولے بسرے خواب کا بےچہرہ عکس، جو وقت کی گرد میں گم ہو جائے گا۔

درد محض اذیت نہیں ہوتے، یہ شناخت ہوتے ہیں۔ زخم فقط گواہی نہیں دیتے، یہ ایک مہر ہوتے ہیں، جو ثابت کرتے ہیں کہ ہم نے زندگی کو جھیلا ہے، اسے اپنی ہڈیوں میں سہا ہے، اپنی روح پر کندہ کیا ہے۔ مگر جب کوئی ان تکلیفوں کو بھی ہم سے چھین لے—یا ان پر قابض ہو جائے—تو ہم کیا رہ جاتے ہیں؟

ایک بےنام پرندہ، جس کے پر تو سلامت ہیں، مگر اڑان کہیں گم ہو چکی ہے۔ ایک دریا، جس کا بہاؤ تو جاری ہے، مگر اس کا منبع کہیں سوکھ چکا ہے۔ ایک چراغ، جو روشنی تو دے رہا ہے، مگر اس کی لو بےجان ہو چکی ہے۔

انسان اپنی تکلیفوں میں بستا ہے، اپنے دکھوں میں سانس لیتا ہے۔ یہ زخم اس کے جسم پر نہیں، اس کی ہستی کے سنگ تراش ہیں۔ مگر اگر کوئی اس کے دردوں کو بھی مٹا دے، تو وہ خالی مکان بن جاتا ہے، جس کے دروازے تو موجود ہیں، مگر اس کے اندر کچھ بھی نہیں۔

اگر تم میرے زخم چھین لو، تو میں فقط خلا رہ جاؤں گا—ایسا خلا، جس میں کوئی صدا گونجتی تو ہے، مگر اس کا کوئی سننے والا نہیں۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top