خاندانی نظام کا بحران

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

روایات اور جدیدیت کے درمیان کشمکش

کبھی یہ گھر ایک شجر کی مانند ہوا کرتے تھے، جن کی جڑیں مضبوط، شاخیں سایہ دار اور پھل میٹھے ہوا کرتے تھے۔ دادا کی شفقت، دادی کی کہانیاں، والدین کا احترام اور بہن بھائیوں کی بے تکلف ہنسی—یہ سب مل کر ایک ایسا خاندانی نظام تشکیل دیتے تھے جہاں ہر فرد اپنی جگہ پر جڑا رہتا تھا، جیسے درخت کے پتے ایک ہی تنا پر پروئے جاتے ہیں۔

مگر اب وہ تنا دیمک زدہ ہو چکا ہے۔ مغربی ہوا کے جھونکے جب ان شاخوں سے ٹکرائے، تو روایات کے کچھ زرد پتے جھڑ گئے۔ کچھ شاخیں وقت کی تیز دھوپ میں سوکھنے لگیں، اور اب یہ درخت اپنے ہی بکھرتے وجود سے سوال کرتا ہے: “کیا میں زندہ رہوں گا؟”

جدیدیت نے آزادی تو دی، مگر ساتھ ہی قربت چھین لی۔ لوگ ایک چھت کے نیچے رہتے ہیں، مگر دلوں میں فاصلے بڑھ گئے ہیں۔ والدین اب بزرگ نہیں، بوجھ بننے لگے ہیں۔ بھائی بہن اب بچپن کے ساتھی نہیں، جائیداد کے حریف بن گئے ہیں۔ اولاد، جسے والدین کی امید ہونا چاہیے تھا، آج خود کو خودمختاری کی دوڑ میں تنہا محسوس کر رہی ہے۔

سوال یہ نہیں کہ جدیدیت غلط ہے یا روایات درست۔ سوال یہ ہے کہ ہم نے اپنی جڑوں کو سمجھے بغیر ان پر کلہاڑی کیوں چلا دی؟ کیا ہم اس درخت کو دوبارہ ہرا کر سکتے ہیں؟ شاید ہاں، اگر ہم تعلقات کی زمین کو محبت سے سیراب کریں، اگر ہم اپنے بڑھاپے میں والدین کے بڑھاپے کو محسوس کریں، اور اگر ہم ایک بار پھر رشتوں کو خون کے بجائے احساس کی بنیاد پر جوڑنا سیکھیں۔

ورنہ یاد رکھیں، جو درخت اپنی جڑوں سے کٹ جائے، وہ زیادہ دیر کھڑا نہیں رہتا

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top