خبر سے آگے کی کہانی

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

صحافت محض گزرے واقعات کی بازگشت نہیں، بلکہ وہ آئینہ ہے جو مستقبل کی دھند میں چھپے سائے دکھاتا ہے۔ یہ محض ماضی کا نوحہ یا حال کا مرثیہ نہیں، بلکہ آنے والے کل کی پیشانی پر لکھی ان تحریروں کو پڑھنے کا ہنر ہے جو ابھی دنیا کی آنکھ سے اوجھل ہیں۔ خبر فقط ایک لمحے کی سرخی نہیں، بلکہ وہ صدا ہے جو وقت کی دیواروں سے ٹکرا کر لوٹنے سے پہلے ضمیر کی زمین پر دراڑیں ڈال دیتی ہے۔

سچی صحافت وہ ہے جو صرف جلتے گھروں کی راکھ نہیں گنتی، بلکہ ان چنگاریوں کو بھی پہچانتی ہے جو ہوا میں تحلیل ہو کر کسی نئے الاؤ کا پیش خیمہ بن سکتی ہیں۔ وہ جو شور میں دبنے سے انکار کرتی ہے، جو طاقت کے دروازوں کے پیچھے پیدا ہونے والی سرگوشیوں کو سنتی اور ان خاموشیوں میں چھپے خطرات کو آواز دیتی ہے۔ یہ ایک چراغ ہے جو اندھیروں میں جلایا جاتا ہے، مگر اس کی روشنی سے پہلے جلنے والے کو خود جلنا پڑتا ہے۔

یہ ذمہ داری ہے، بوجھ ہے، ایک امانت ہے—ایسی امانت جسے سچائی کے قلم سے لکھا جائے تو تاریخ کے صفحات پر امر ہو جاتی ہے، مگر اگر مفادات کی سیاہی میں ڈبو دیا جائے تو خود اپنی قبر کھود لیتی ہے۔ یہ وہ روشنی ہے جسے جلانے والے کو اکثر اپنی ہی لپٹوں میں جھلسنا پڑتا ہے، وہ اذان ہے جسے دینے والے کو اکثر سننے والا کوئی نہیں ملتا۔

اصل صحافت وہ نہیں جو صرف بیتے وقت کا نوحہ لکھے، بلکہ وہ ہے جو مستقبل کی آہٹ کو سن سکے، جو ظلم کے قدموں کی چاپ کو محسوس کرے، جو اس لمحے کو گرفت میں لے جو ابھی جنم نہیں لے سکا، مگر جس کا سایہ تاریخ کے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔ وہ جو دیکھ سکے کہ جو دروازہ کھٹکھٹا رہا ہے، وہ صرف ایک آنے والا مسافر نہیں، بلکہ وہ ہوا ہے جو طوفان کو جنم دے سکتی ہے۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top