ضبطِ نفس کی معراج

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

انسانی زندگی آزمائشوں اور امتحانات کی سرزمین ہے، جہاں ہر نفس کو اپنے ارادے، خواہشات اور عقل کی روشنی میں اپنا راستہ متعین کرنا ہوتا ہے۔ قرآن مجید نے جابجا ضبطِ نفس کی تلقین کی ہے، اور روزہ اسی ضبطِ نفس کا سب سے بڑا عملی مظہر ہے۔ چنانچہ قرآن میں ارشاد ہوتا ہے:
“يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ”
(البقرہ: 183)
یعنی اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم تقویٰ حاصل کرو۔ یہاں “لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ” ایک نہایت عمیق نکتہ ہے۔ روزے کی غایت محض بھوک اور پیاس کو سہنا نہیں بلکہ تقویٰ یعنی ضبطِ نفس اور خدا کی قربت ہے۔ تقویٰ دراصل وہ کیفیت ہے جس میں انسان اپنی خواہشات کو اللہ کی رضا کے تابع کر دیتا ہے، اور یہی ضبطِ نفس کی معراج ہے۔

روزہ انسان کو اس حقیقت کی یاددہانی کراتا ہے کہ وہ محض ایک حیوانی وجود نہیں، بلکہ ایک روحانی حقیقت بھی رکھتا ہے۔ جب ایک روزہ دار بھوک اور پیاس کو برداشت کرتا ہے، تو وہ درحقیقت اپنے نفس پر قابو پانے کی مشق کرتا ہے۔ قرآن میں اللہ فرماتا ہے:
“وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاهَا وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسَّاهَا”
(الشمس: 7-10)
یعنی ہر نفس کو اللہ نے نیکی اور بدی دونوں کا الہام دیا، اور وہی کامیاب ہوا جس نے اپنے نفس کو پاکیزہ کیا، اور وہی ناکام ہوا جس نے اپنے نفس کو آلودہ کر لیا۔ روزہ اسی تزکیہ نفس کا ایک اعلیٰ ترین ذریعہ ہے جو انسان کو اس کی خواہشاتِ نفس سے بلند کرتا ہے۔

انسانی نفس ہر لمحہ برائی کی طرف جھکنے کا رجحان رکھتا ہے، اور شیطان اس رجحان کو مزید بھڑکاتا ہے۔ لیکن روزہ ایک مضبوط قلعہ ہے جو شیطانی وسوسوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ چنانچہ حدیث نبوی ﷺ ہے:
“الصِّيَامُ جُنَّةٌ”
(بخاری و مسلم)، یعنی “روزہ ایک ڈھال ہے۔” جب انسان روزے کے ذریعے اپنی نفسانی خواہشات پر قابو پا لیتا ہے، تو وہ حقیقت میں اپنے نفس کے بُرے رجحانات کو نکیل ڈال دیتا ہے اور ایک متوازن اور مضبوط شخصیت کی تعمیر کرتا ہے۔

روزہ محض ایک مذہبی فریضہ نہیں بلکہ ایک فلسفہِ حیات ہے۔ یہ وہ تربیت ہے جو انسان کو اس کے ارادے کی معراج تک پہنچاتی ہے۔ دنیا کے ہر بڑے فلسفے نے ضبطِ نفس کو اعلیٰ ترین اخلاقی فضیلت قرار دیا ہے۔ اسلام اس ضبطِ نفس کو عبادت کی معراج میں تبدیل کر دیتا ہے۔ جب ایک انسان دن بھر بھوکا پیاسا رہ کر بھی کھانے پینے پر قابو رکھتا ہے، تو وہ درحقیقت اپنی روحانی طاقت کو بیدار کر رہا ہوتا ہے۔ یہی وہ کیفیت ہے جس کی طرف قرآن اشارہ کرتا ہے:
“وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَىٰ فَإِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَأْوَىٰ”
(النازعات 40-41)
یعنی جس نے اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے کا خوف رکھا اور اپنے نفس کو خواہشات سے روکا، تو اس کا ٹھکانہ جنت ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ روزہ محض کھانے پینے سے رک جانے کا نام نہیں بلکہ یہ ضبطِ نفس کی ایک مشق ہے جو انسان کو اس کی روحانی بلندی تک لے جاتی ہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ہم اپنی خواہشات کے غلام نہ بنیں بلکہ انہیں قابو میں رکھ کر اعلیٰ مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کریں۔ روزہ ایک ایسی عبادت ہے جو نہ صرف اللہ کی قربت کا ذریعہ بنتی ہے بلکہ انسان کو نفسِ امارہ کے شکنجے سے بھی آزاد کرتی ہے۔ چنانچہ جب انسان نفس کی بھوک پر قابو پا لیتا ہے، تو وہ روح کی سیرابی کی طرف بڑھتا ہے، اور یہی ضبطِ نفس کی معراج ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو انسان کو دنیا کی آلائشوں سے نکال کر حق کی روشنی میں لے آتا ہے، اور یہی وہ راستہ ہے جس پر چلنے والے لوگ کامیاب ہوتے ہیں۔ قرآن اسی حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کرتا ہے:
“وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ ۚ وَإِنَّهَا لَكَبِيرَةٌ إِلَّا عَلَى الْخَاشِعِينَ”
(البقرہ: 45)
یعنی صبر (جس کی بلند ترین شکل روزہ ہے) اور نماز کے ذریعے اللہ کی مدد حاصل کرو، اور یہ عبادات انہی کے لیے آسان ہوتی ہیں جو دل سے اللہ کے حضور جھکنے والے ہوتے ہیں۔

پس روزہ وہ پل صراط ہے جو انسان کو خواہشات کی پستیوں سے نکال کر روحانی عروج اور ضبطِ نفس کی معراج تک پہنچاتا ہے۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top