(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
رمضان وہ مقدس مہینہ ہے جب وقت کی سوئیاں دھیرے دھیرے کسی قدیم عبادت گاہ کی دیوار پر سرکتی ہیں، اور زمین کی پیاسی روح پر رحمت کی پہلی بوند گرتی ہے۔ یہ وہ موسم ہے جب نفس کے صحرا میں کھجور کے درخت اگتے ہیں، اور خواہشات کی تپتی ریت پر صبر کے بادل سایہ فگن ہو جاتے ہیں۔
یہ مہینہ کسی سوکھے دریا کے لیے پہلی بارش جیسا ہے، جس کی بوندیں زمین کے اندر اتر کر اسے زرخیز بنا دیتی ہیں۔ یہ وہ لمحہ ہے جب دل کی بنجر مٹی پر سجدے کا پہلا قطرہ پڑتا ہے اور بندگی کی خوشبو فضاؤں میں گھلنے لگتی ہے۔
دنیا کے ہنگامے جیسے کسی خواب کی طرح پیچھے رہ جاتے ہیں، اور انسان اپنے باطن کے آئینے میں اپنی اصل کو دیکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ بھوک اور پیاس کا احساس محض جسم کا امتحان نہیں، بلکہ یہ روح کی تطہیر کا ایک عمل ہے— جیسے کوئی صوفی دنیا سے کٹ کر مراقبے میں بیٹھا ہو، جیسے کوئی پرانا چراغ اندر کی روشنی کو جگانے کے لیے اپنے گرد جمی گرد کو جھاڑ رہا ہو۔
راتیں ایسی ہوتی ہیں جیسے خاموش سمندر، جس کی گہرائیوں میں مغفرت کے موتی بکھرے ہوتے ہیں۔ ہر سحر ایک نئی امید لے کر آتی ہے، اور ہر افطار جیسے کسی قیدی کی زنجیریں کٹنے کا لمحہ ہو۔ تلاوت کی آواز، جیسے کسی سنسان وادی میں بہتے چشمے کی موسیقی ہو، دل کو ٹھنڈک پہنچاتی ہے۔
رمضان ہمیں سکھاتا ہے کہ اصل زندگی وہ نہیں جو جسم کے آس پاس گردش کرتی ہے، بلکہ وہ جو روح کے اندر روشن ہوتی ہے۔ یہ وہ درس ہے جو انسان کو خاک سے بلند کر کے روشنی کے قریب لے جاتا ہے، جہاں بھوک صرف روٹی کی نہیں، بلکہ معرفت کی بھی ہوتی ہے، اور پیاس صرف پانی کی نہیں، بلکہ قربتِ الٰہی کی بھی ہوتی ہے۔
یہ مہینہ ایک دروازہ ہے— صبر، شکر، عبادت اور تزکیہ کا دروازہ۔ جو بھی اس میں داخل ہوتا ہے، وہ خود کو ایک نئے افق پر پاتا ہے۔ رمضان گزر جاتا ہے، مگر اس کی روشنی دل کے کسی کونے میں ہمیشہ جلتی رہتی ہے، جیسے کسی تاریک رات میں دور سے جھلملاتا ہوا کوئی چراغ!
