زہر کا ورثہ اور نجات کی راہ

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

زندگی محض تجربات کی زنجیر نہیں، بلکہ ایک ایسا زہر آلود جام ہے جو نسل در نسل گردش میں رہتا ہے۔ کچھ لوگ اس زہر کو چوس کر خود کو بچانے کی کوشش کرتے ہیں، اور کچھ اسے تھوکنے کا حوصلہ بھی نہیں رکھتے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کب تک ہم اس زہر کو اپنی رگوں میں بہنے دیں گے؟ کب تک ہم اسے مقدس روایت سمجھ کر گلے لگاتے رہیں گے؟

یہ زہر صرف سانپ کے ڈسنے کا نہیں، بلکہ وہ زہریلی روایات ہیں جو صدیوں سے ہمارے وجود میں سرایت کر چکی ہیں۔ وہ نظریات، وہ تعصبات، وہ بے بنیاد رسم و رواج جو ہمیں ورثے میں ملے ہیں، درحقیقت ایک ایسا زہر ہیں جو نسل در نسل منتقل ہوتا جا رہا ہے۔ ہمارے بزرگوں نے شاید اس زہر کو بچاؤ کے لیے چوسا تھا، مگر ہم نے اسے زندگی کا حصہ بنا لیا۔ اب یہ زہر صرف جسم میں نہیں، بلکہ دماغوں میں اتر چکا ہے۔

کبھی کسی نے سوچا کہ ہمارے آباء نے جن جبر و استحصال کو برداشت کیا، انہیں آئندہ نسلوں کے لیے کیوں لازم کر دیا؟ وہ رسمیں جو کسی وقت نجات کا راستہ تھیں، وہی آج زنجیر بن چکی ہیں۔ وہ نظریات جو کسی وقت حالات کا جبر تھے، آج عقیدے کی صورت اختیار کر چکے ہیں۔ ہم اس زہر کو مسلسل چوس رہے ہیں، مگر اس کی تلخی محسوس کرنے کی حس تک کھو چکے ہیں۔

یہی سب سے بڑا المیہ ہے—ہم اس زہر کو نگل چکے ہیں، اور اب اسے تھوکنے کے قابل بھی نہیں رہے۔ جو کچھ ہمیں وراثت میں ملا، ہم نے اسے تقدیر سمجھ کر قبول کر لیا۔ ہماری زبانیں گنگ ہو چکی ہیں، ہمارے دل سن ہو چکے ہیں، اور ہمارے ذہن ان زنجیروں میں ایسے جکڑ چکے ہیں کہ انہیں توڑنے کا حوصلہ نہیں رہا۔

لیکن زندگی محض ماضی کی قید میں گزارنے کا نام نہیں، بلکہ آگے بڑھنے کا سفر ہے۔ ارتقاء وہی قومیں کرتی ہیں جو اپنے زخموں کو پہچانتی ہیں، جو اپنی لغزشوں کا اعتراف کرتی ہیں، اور جو ماضی کے زہر کو تھوکنے کی ہمت رکھتی ہیں۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ جو روایات ہمارے آبا نے اپنی بقا کے لیے اپنائی تھیں، وہی آج ہماری تباہی کا سبب بن رہی ہیں۔ اگر ہم نے اس زہر کو تھوکنے کی ہمت نہ کی، تو ہم بھی اسی سانپ کی مانند بن جائیں گے جو اپنے ہی زہر میں گھل کر فنا ہو جاتا ہے۔

اب وقت آ چکا ہے کہ ہم فیصلہ کریں—کیا ہم اپنی نسلوں کو یہی زہر ورثے میں دیں گے، یا انہیں ایک نئی، آزاد اور بامعنی زندگی کا راستہ دکھائیں گے؟ کیا ہم زہر کو چوسنے والوں میں شامل ہوں گے، یا اسے تھوک کر نجات کی راہ اپنائیں گے؟

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top