کشش کے مدار میں قید زندگیاں

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

کائنات کی ہر شے کشش کے ابدی قانون میں جکڑی ہوئی ہے۔ کوئی زمین کی مانند تھامنے والا، کوئی سورج کی طرح جھلسانے والا، اور کوئی بلیک ہول جیسا—سب کچھ اپنے اندر نگل لینے والا۔ مگر کشش کا یہ جادو ہمیشہ قربت کا باعث نہیں بنتا، جیسے سورج اپنی بے پناہ قوت سے سیاروں کو اپنے گرد گھماتا ہے، مگر انہیں چھو نہیں سکتا۔ جیسے چاند زمین کی کشش میں بندھا ہے، مگر ہر رات اس کا فاصلہ وہی رہتا ہے۔

زندگی کے مدار بھی کچھ ایسے ہی ہوتے ہیں۔ کچھ لوگ اپنے وجود میں ایسی مقناطیسیت رکھتے ہیں کہ ان کے گرد ایک پوری کہکشاں گھومنے لگتی ہے۔ نظریں ان پر جمی رہتی ہیں، دل ان کی سمت کھنچتے ہیں، اور ذہن ان کے خیال کی کشش میں الجھے رہتے ہیں۔ مگر جو روشنی جتنی زیادہ چمکتی ہے، اس کا جلنا بھی اتنا ہی شدید ہوتا ہے۔ سورج اپنی ہی آگ میں جلتا ہے، اور وہ ستارے جو سورج سے بھی بڑے ہوتے ہیں، اپنی ہی کشش کے بوجھ تلے منہدم ہو جاتے ہیں۔

یہی وہ مقام ہوتا ہے جہاں کشش فنا میں تبدیل ہو جاتی ہے، جہاں روشنی کی شدت بلیک ہول کی تاریکی کو جنم دیتی ہے۔ بلیک ہول—وہ بے انت خلا، جہاں کچھ بھی داخل ہو، واپس نہیں آ سکتا۔ روشنی، وقت، احساس، سب کچھ اس کے دہانے پر بے بسی کی تصویر بن جاتے ہیں۔ اور کچھ لوگ بھی ایسے ہوتے ہیں، جو اپنے اندر کی کشش سے دوسروں کو اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں، مگر جتنا قریب آؤ، واپسی کے دروازے بند ہوتے چلے جاتے ہیں۔ وہ روشنی کی مانند دکھائی دیتے ہیں، مگر اندر ہی اندر ایک اندھیرا انہیں کھا چکا ہوتا ہے۔ وہ خود ایک خلا میں تبدیل ہو جاتے ہیں، ایک ایسی خالی جگہ جہاں محبت، قربت، اور احساس سب بے معنی ہو جاتے ہیں۔

ایسی ہی زندگی کی گردش ہے—کوئی زمین کی طرح تھامنے والا ہے، کوئی سورج کی مانند جلانے والا، اور کوئی بلیک ہول کی طرح سب کچھ فنا کر دینے والا۔ مگر کشش ہمیشہ دو طرفہ ہوتی ہے۔ جو جتنا زیادہ کھینچتا ہے، وہ خود بھی اتنی ہی گہرائی میں ڈوبتا چلا جاتا ہے۔ کوئی ایک لمحے میں جل کر راکھ ہو جاتا ہے، اور کوئی ہمیشہ کے لیے ناپید ہو جاتا ہے۔ یہی کائنات کی سب سے بڑی حقیقت ہے—ہر کشش، درحقیقت، فنا کا پیش خیمہ ہے۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top