(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
محبت ایک لطیف اور بے ساختہ جذبہ ہے، جو انسان کو ایثار، قربانی اور دوسروں کی خوشی میں اپنی خوشی تلاش کرنے کا درس دیتی ہے۔ یہ ایک ایسا رنگ ہے جو زندگی کو حسین اور دلکش بناتا ہے۔ لیکن جب محبت میں ضد در آتی ہے تو یہ خالص جذبہ اپنی اصل روح کھو کر ایک بے رحم انا کی جنگ میں بدل جاتا ہے۔ محبت اور ضد کی سرحد انتہائی نازک ہوتی ہے۔ اگر محبت میں ضد ایک حد سے آگے بڑھ جائے تو وہ تعلقات کی نزاکت کو چکنا چور کر سکتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ محبت میں ضد کی حد کیا ہے؟ کیا ضد ہمیشہ نقصان دہ ہوتی ہے، یا کبھی اس کا کوئی فائدہ بھی ہو سکتا ہے؟ اور کیا ضدی انسان خدا کے نزدیک قابلِ قبول ہوتا ہے؟
محبت میں ضد کی کیا حد ہے؟
محبت میں ضد کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ یہ ایک نرم اور محبت بھرے تعلق کو خود غرضی اور سختی میں بدل دیتی ہے۔ محبت اگر خلوص، احساس اور قربانی کا تقاضا کرتی ہے، تو ضد چاہتی ہے کہ سب کچھ ویسا ہی ہو جیسا ضدی شخص چاہتا ہے، چاہے اس میں دوسرے شخص کی خوشی شامل ہو یا نہ ہو۔
اگر محبت میں ضد اتنی شدت اختیار کر لے کہ وہ دوسرے شخص کے جذبات، خواہشات اور آزادی کو روند ڈالے، تو یہ محبت نہیں بلکہ تسلط کہلائے گی۔ محبت میں ضد کی حد وہاں آ کر رک جانی چاہیے، جہاں دوسرا فریق اپنی آزادی اور عزت نفس کھو دینے کا احساس کرے۔
قرآن مجید میں ضد اور ہٹ دھرمی کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے:
وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ ٱتَّبِعُواْ مَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ قَالُواْ بَلْ نَتَّبِعُ مَآ أَلْفَيْنَا عَلَيْهِ ءَابَآءَنَا
(البقرہ: 170)
“اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کی نازل کردہ ہدایت کی پیروی کرو، تو وہ کہتے ہیں: ہم تو وہی طریقہ اپنائیں گے جس پر ہم نے اپنے آباء و اجداد کو پایا۔”
یہ آیت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ضد کبھی کبھار ایسی اندھی تقلید بن جاتی ہے، جو حقیقت کو تسلیم کرنے سے روکتی ہے۔
محبت ضد پر آجائے تو کیا حاصل کیا جا سکتا ہے؟
محبت میں ضد جب حد سے تجاوز کر جائے، تو یہ رشتے کو برباد کر دیتی ہے۔ ضد کے نتیجے میں یا تو محبت کرنے والے ایک دوسرے سے دور ہو جاتے ہیں، یا پھر وہ ایک زہریلے تعلق میں بندھ جاتے ہیں، جہاں نہ سکون باقی رہتا ہے اور نہ عزت۔
نبی کریمﷺ نے فرمایا:
هَلَكَ الْمُتَنَطِّعُونَ
(مسلم، حدیث: 2670)
“ہلاک ہو گئے وہ لوگ جو حد سے تجاوز کرنے والے ہیں۔”
یہ حدیث اس بات کو واضح کرتی ہے کہ حد سے زیادہ سختی اور ضد تباہی کی طرف لے جا سکتی ہے، چاہے وہ محبت میں ہو یا کسی اور معاملے میں۔
لغت کے اعتبار سے ضد کے معنی اور اس کے نقصانات
لغوی طور پر “ضد” کے کئی مفہوم ہیں:
* ہٹ دھرمی اپنی بات پر اَڑ جانا، خواہ غلط ہی کیوں نہ ہو۔
* شدت پسندی ہر قیمت پر اپنی بات منوانے کی کوشش۔
* خود غرضی اپنی خواہشات کو دوسروں کی ضروریات پر ترجیح دینا۔
* انکار برائے انکار بلا وجہ کسی بات کو قبول نہ کرنا، محض مخالفت کی خاطر۔
ضد کے نقصانات میں درج ذیل چیزیں شامل ہیں:
رشتوں میں دراڑ: ضد انسان کو سمجھوتہ کرنے اور دوسرے کی بات سننے سے روکتی ہے، جس سے تعلقات میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔
انا پرستی:
ضد بعض اوقات انسان کو حقیقت قبول کرنے سے روکتی ہے، اور وہ اپنی ضد کو اپنی انا کا مسئلہ بنا لیتا ہے۔
تنہائی:
ضدی انسان آہستہ آہستہ اپنے پیاروں کو کھو بیٹھتا ہے، کیونکہ کوئی بھی ہمیشہ ایک ضدی شخص کے ساتھ تعلق نہیں نبھا سکتا۔
روحانی نقصان:
ضد کبھی کبھی تکبر اور خود پسندی میں بدل جاتی ہے، جو اللہ کو ناپسند ہے۔
قرآن میں ارشاد ہوتا ہے:
إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ ٱلْمُسْتَكْبِرِينَ
(النحل: 23)
“بے شک اللہ تکبر کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔”
کیا کبھی ضد فائدہ مند ہوئی؟
اگرچہ عمومی طور پر ضد کو منفی سمجھا جاتا ہے، لیکن کچھ مواقع پر یہی ضد ثابت قدمی اور استقامت کی علامت بن سکتی ہے۔ اگر ضد کسی سچائی، اصول یا نیک مقصد کے لیے ہو، تو یہ فائدہ مند بن سکتی ہے۔
مثال کے طور پر:
حضرت موسیٰؑ کی فرعون کے خلاف استقامت – یہ ایک مثبت ضد تھی، جو سچائی کے دفاع کے لیے تھی۔
حضرت یوسفؑ کی پاکدامنی پر ثابت قدمی – انہوں نے زلیخا کی خواہشات کے خلاف استقامت دکھائی، جو کہ ایک قابلِ تعریف ضد تھی۔
نبی کریمﷺ کی توحید پر استقامت آپﷺ نے اپنی دعوتِ حق سے پیچھے ہٹنے سے انکار کیا، باوجود اس کے کہ کفار نے ہر طرح کی مخالفت کی۔
حدیثِ نبویﷺ ہے:
إِنَّ الدِّينَ يُسْرٌ، وَلَنْ يُشَادَّ الدِّينَ أَحَدٌ إِلَّا غَلَبَهُ
(بخاری، حدیث: 39)
“دین آسان ہے، اور جو اس میں حد سے زیادہ سختی کرے گا، وہ مغلوب ہو جائے گا۔”
یہ حدیث ضد اور سختی میں توازن کی ضرورت پر زور دیتی ہے۔
کیا ایسا شخص خدا تعالیٰ کے نزدیک قابلِ قبول ہوتا ہے؟
اللہ تعالیٰ ہر اس عمل کو پسند کرتا ہے جو توازن اور اعتدال پر مبنی ہو۔ وہ کسی بھی ایسی ضد کو ناپسند کرتا ہے جو ظلم یا غرور میں بدل جائے۔
قرآن میں ارشاد ہوتا ہے:
وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَٰكُمْ أُمَّةًۭ وَسَطًۭا
(البقرہ: 143)
“اور ہم نے تمہیں ایک معتدل امت بنایا ہے۔”
اللہ کی رضا اسی میں ہے کہ انسان ضدی ہونے کے بجائے صبر، حکمت اور نرمی کو اپنائے۔
نتیجہ
محبت میں ضد اگر عزت، صبر اور حکمت کے دائرے میں ہو تو یہ رشتے کو مضبوط کر سکتی ہے، لیکن اگر یہ انا اور زبردستی پر مبنی ہو، تو یہ محبت کو کھوکھلا کر دیتی ہے۔ ضد کو محبت پر غالب آنے کی اجازت دینا، محبت کی روح کو فنا کرنے کے مترادف ہے۔ حقیقی محبت میں ضد کی نہیں، بلکہ قربانی، ایثار، اور سمجھوتے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اللہ کے نزدیک وہی شخص مقبول ہے جو اپنی ضد کو حکمت، صبر اور عدل کے دائرے میں رکھتا ہے، نہ کہ وہ جو اپنی ضد کی خاطر دوسروں کے جذبات اور سکون کو روند دیتا ہے۔
