(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
مسکراہٹ کے رنگ میں لپٹا زخم
چوٹ ہمیشہ ایک نتیجہ ہوتی ہے۔ کبھی انا کا، کبھی محبت کا، کبھی قسمت کا، اور کبھی محض اتفاق کا۔ مگر ہر چوٹ ایک کہانی سناتی ہے، ایک راز افشا کرتی ہے، اور اگر غور کیا جائے تو ایک تحفہ بھی دیتی ہے۔ مگر سب سے بہترین چوٹ کون سی ہے؟ وہ جو جسم پر نشان چھوڑ جائے یا وہ جو روح میں گہرا نقش بنا دے؟
نہیں، بہترین چوٹ وہ ہوتی ہے جو ایک حقیقی مسکان کو جنم دے۔ وہ جو زخم کے پردے میں حکمت کا چراغ جلا دے، جو درد کو دوا بنا دے، جو شکست کو اختیار میں بدل دے۔ یہ وہ چوٹ ہے جو انسان کو ایک ایسے مقام پر لے آتی ہے جہاں دنیا کی حرکیات بدل جاتی ہیں—جہاں گناہ اور ثواب کی جنگ میں ضبط فاتح ٹھہرتا ہے، جہاں آنکھ نم ہو کر بھی ہنسی کی چمک سے خالی نہیں ہوتی، جہاں دکھ کے اندر خوشی کا کوئی چھپا ہوا دروازہ مل جاتا ہے۔
یہ وہ چوٹ ہے جو کسی زہر کو امرت بنانے کا ہنر سکھا دیتی ہے۔ جس نے یہ چوٹ کھائی، وہ جان گیا کہ کیسے رونے کو مسکراہٹ میں اور ہار کو جیت میں بدلا جا سکتا ہے۔ وہ جان گیا کہ زخموں پر نمک چھڑکنے والے دراصل خود جل رہے ہوتے ہیں، اور چوٹ کھا کر مسکرانے والے کسی اور ہی جہان میں قدم رکھ چکے ہوتے ہیں۔
یہ چوٹ کھانے والے کو ایک انوکھے اختیار سے نوازتی ہے—یہ فیصلہ کہ وہ اس چوٹ کو کیسے لے۔ وہ چاہے تو ماتم کرے، چاہے تو قہقہے لگا کر اس چوٹ کی تدفین کر دے۔ یہ اختیار اس کے ضبط کی معراج ہے، اس کی روح کی بلندی ہے، اور شاید اس کے صبر کا سب سے بڑا جشن بھی۔
مگر سب سے زیادہ دلچسپ صورتحال تو چوٹ دینے والے کی ہوتی ہے۔ وہ حیران کھڑا سوچتا ہے کہ اپنی کم ظرفی پر روئے یا اس شخص کے کمالِ ہنر کی داد دے جو اس کے دیے ہوئے درد کو خوشبو میں بدل کر اس پر ہنسا جا رہا ہے۔
کیا ہی رنگین مزاجی ہے! کیا ہی اختیار ہے! کیا ہی ضبط ہے!
بہترین چوٹ، درحقیقت، بہترین استاد ہے۔ یہ وہ چوٹ ہے جو کمزور کو طاقتور، بے اختیار کو مختار، اور مظلوم کو حکمران بنا دیتی ہے—اگر وہ اسے سمجھ لے۔
