(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
کبھی زندگی ایک نرم سرگوشی لگتی ہے، جیسے درختوں کے بیچ سے گزرتی ہوا—ہلکی، مدھم، مگر مسلسل۔ اور کبھی یہی زندگی ایک بے رحم صدا بن جاتی ہے، جو اپنے قانون خود بناتی ہے، جو خود سے کیا ہر وعدہ توڑ دیتی ہے، اور پھر بھی ہم سے نبھانے کی امید رکھتی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہر امید پوری کرنا ضروری ہے؟ کیا ہر خواب سنوارنا واجب ہے؟ اور اگر زندگی نے اپنی ذمہ داری پوری نہ کی، تو کیا ہمیں بھی خاموشی سے سر جھکانا ہوگا؟
زندگی کی سب سے بڑی طاقت یہی ہے کہ وہ ہمیں باندھ کر رکھتی ہے—کبھی رشتوں میں، کبھی خوابوں میں، کبھی ان وعدوں میں جو کسی نے ہم سے نہیں لیے، مگر ہم نے خود پر لازم کر لیے۔ ہم ایک انجانے بوجھ تلے دبے رہتے ہیں، اس خوف میں کہ اگر یہ سب چھوڑ دیا تو کیا ہوگا؟ مگر ایک لمحہ ایسا بھی آتا ہے جب دل چاہتا ہے کہ سب کچھ روک دیا جائے، ہر شور کو تھام لیا جائے، اور اس خواب کو جینے دیا جائے جو آنکھ کھلتے ہی مر جانے والا ہے۔
مگر خوابوں کا مقدر کیا ہے؟ وہ کب تک زندہ رہ سکتے ہیں؟ کیا وہ وقت کی گرفت سے آزاد ہو سکتے ہیں؟ شاید نہیں۔ مگر اگر خواب فنا ہوتے ہیں تو کیا یہ لازم ہے کہ ہم بھی اپنی حقیقت کو ان کے ساتھ دفن کر دیں؟ نہیں، کیونکہ زندگی خوابوں سے بڑی ہے، تعلقات کی زنجیروں سے زیادہ وسیع ہے، اور جبر کے ہر اصول سے زیادہ آزاد ہے۔
یہی وہ لمحہ ہے جہاں بغاوت جنم لیتی ہے—نہ دنیا کے خلاف، نہ قسمت کے خلاف، بلکہ اپنی بے بسی کے خلاف۔ یہ وہ لمحہ ہے جب انسان کہتا ہے کہ اگر زندگی نے اپنی شرطیں پوری نہیں کیں، تو میں بھی اس کے ہر اصول کا پابند نہیں۔ یہ شکست نہیں، یہ فنا نہیں، بلکہ ایک نئے امکان کی پیدائش ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ زندگی نے ہمیں کیا دیا، بلکہ یہ ہے کہ ہم خود کو کیا دینے کے لیے تیار ہیں۔ شاید سچ یہی ہے کہ جو زندگی ہمارے حق میں نہ ہو، اسے صرف جھیلا نہیں جا سکتا—اسے بدلنا پڑتا ہے، اسے چیلنج کرنا پڑتا ہے، اور کبھی کبھی، اسے مسترد بھی کرنا پڑتا ہے۔
مسترد کرنا ایک شعوری انتخاب ہے تاکہ انسان اپنی ذات کے ساتھ ایمانداری سے جینے کا حق حاصل کر سکے،
اور یہی سب سے بڑی آزادی ہے۔
