(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
محبت کی الہامی کائنات
محبت کی راہ ایک سر بستہ راز ہے، جو نہ کسی دلیل کا محتاج ہے، نہ کسی ثبوت کا۔ یہ وہ عالم ہے جہاں حروف بے معنی ہو جاتے ہیں، اور زبان خاموشی کے آداب سیکھ لیتی ہے۔ یہاں پہنچ کر عقل کی سرحد ختم ہو جاتی ہے، اور دل کا جہان شروع ہوتا ہے—وہی جہان جسے صوفیا نے عالمِ خیال کہا، جہاں محبوب کا تصور محض ایک خیال نہیں رہتا، بلکہ ایک حقیقتِ مطلق بن جاتا ہے۔
یہ وہی وادی ہے جہاں سالک اپنی ہستی کی قید سے نکل کر بقائے عشق میں قدم رکھتا ہے۔ یہ عشق کوئی عام جذبہ نہیں، بلکہ ایک الہامی تجلی ہے، جو وقت و مکان کے اسیر جسم پر نہیں، بلکہ ازل سے ابد کی طرف بہتی روح پر اترتی ہے۔ یہ وہی عشق ہے جو رابعہ بصری کو ہر جانب محبوب کے جلوے دکھانے لگا، وہی عشق جو منصور کو سرِ دار کھڑا کر گیا، وہی جذبہ جو بایزید بسطامی کو “سبحانی! ما أعظم شانی”
کہنے پر مجبور کر گیا۔
خیالِ یار کا جہان دراصل باطن کی ایک کائنات ہے—وہ کائنات جہاں درودیوار نہیں، مگر حدود بھی نہیں؛ جہاں وقت رواں نہیں، مگر ہر لمحہ ابدیت میں ڈھل چکا ہے؛ جہاں آنکھیں بند کرنے سے منظر واضح ہوتے ہیں، اور عقل کے چراغ گُل ہوتے ہی معرفت کے سورج طلوع ہوتے ہیں۔
سالک جب اس وادی میں قدم رکھتا ہے تو پہلے پہل اسے اپنے وجود کا ہیلا ہُو نظر آتا ہے—کبھی وہ محبوب کو پاتا ہے، کبھی خود کو کھو دیتا ہے، اور کبھی ان دونوں میں کوئی فرق باقی نہیں رہتا۔ یہی فنا فی المحبوب کا مقام ہے، جہاں عاشق و معشوق کی دوئی مٹ جاتی ہے، جہاں من و تو کی حدیں باقی نہیں رہتیں۔
یہ وہ مقام ہے جہاں ہر لمحہ وصل ہے، مگر ہجر بھی اسی وصل کا ایک پہلو بن جاتا ہے۔ یہاں رونے والے ہنستے ہیں، اور ہنسنے والے رونے کی لذت سے آشنا ہوتے ہیں۔ یہاں ہر کھونے میں پانے کا راز ہے، اور ہر فنا میں بقا کی حقیقت۔
جو ایک بار خیالِ یار کے اس الہامی سمندر میں غرق ہو جائے، وہ دنیا کی حقیقتوں کو خواب سے زیادہ کچھ نہیں سمجھتا۔ اسی لیے جب عارف کہتا ہے:
“ہم کو خیالِ یار سے باہر نہ کھینچیے”
تو درحقیقت وہ دنیا کے فریب سے نکل کر اصل حقیقت میں داخل ہو چکا ہوتا ہے۔ یہ وہ حقیقت ہے جسے لفظوں میں سمیٹنا ممکن نہیں، جسے صرف وہی سمجھ سکتا ہے جس نے محبوب کے تصور کی تپش میں اپنے وجود کو راکھ ہوتے دیکھا ہو۔
یہاں سوال یہ نہیں کہ سالک واپس لوٹ سکتا ہے یا نہیں—یہاں سوال یہ ہے کہ جو ایک بار محبوب کے نورِ حضوری میں جل جائے، وہ خود کو دوبارہ خاک میں کیسے ڈھونڈ سکتا ہے؟ اور شاید یہی سب سے بڑی بقا ہے—بقا بالوصل، بقا بالمحبوب، بقا بلاخوف، بقا بلاحدود!
