(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
دل بھی عجب شے ہے—یہ کبھی مرتا نہیں، مگر کبھی جوان بھی نہیں رہتا۔ کچھ غم ایسے ہوتے ہیں جو اس پر یوں آن گرتے ہیں جیسے صدیوں کا بوجھ کسی لمحے میں سمیٹ دیا گیا ہو۔ ایک پل میں دھڑکنوں کا ترنم سسکیوں میں ڈھل جاتا ہے، اور یوں لگتا ہے جیسے وقت نے اس پر بڑھاپے کی چادر ڈال دی ہو۔
کبھی یہ دل بےخوف تھا، تیز دھڑکتا تھا، کسی نوخیز خواب کی مانند، جس میں امید کی خوشبو تھی، جو ہوا میں تحلیل ہو کر بھی اپنا لمس چھوڑ جاتی ہے۔ مگر پھر وقت نے اس پر زخموں کی بارش برسا دی۔ پہلے تو یہ بھیگتا رہا، لرزتا رہا، مگر جب درد تھمنے کا نام نہ لیا تو اس نے کانپنا بھی چھوڑ دیا۔ بس خاموشی سے بھیگتا رہا، یہاں تک کہ دکھ کے پانی کا وزن اٹھاتے اٹھاتے جھک گیا۔
اب یہ دل کسی بوڑھے مسافر کی طرح لاٹھی ٹیک کر چلتا ہے، آہستہ، محتاط، ہر قدم سوچ سمجھ کر رکھتا ہے۔ خوشی در پر دستک دے تو چونک کر دیکھتا ہے، جیسے کوئی اجنبی ہو جسے پہچاننے میں دقت ہو رہی ہو۔ ہنسی کے بیچ بھی کسی چھپی ہوئی اداسی کو ٹٹولتا ہے، جیسے کہیں کوئی پرانی یاد چھوٹ گئی ہو۔
یہی تو ہوتا ہے نا، جب زخموں کے بوجھ سے دل تھک جائے؟ جب وہ جوانی کے جوش سے نکل کر بڑھاپے کی لرزیدہ تنہائی میں داخل ہو جائے؟ جب وہ ہر دھڑکن کو تولنے لگے کہ کہیں کوئی نیا زخم نہ لگ جائے؟
یہی دل، جو کبھی سرکش تھا،
اب خاموش ہے،
تھکا ہوا ہے،
بوڑھا ہو گیا ہے…
