(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
کبھی ایسا ہوا ہے کہ تم نے آئینے میں جھانکا ہو اور اپنی ہی آنکھوں میں کھو گئے ہو؟ جیسے پانی کی گہرائی میں ڈوبتے لمحے، جہاں کچھ نظر آتا ہے مگر سب دھندلا ہوتا جاتا ہے۔ جیسے تم اپنے ہی عکس کے روبرو کھڑے ہو، مگر وہ تمہاری شناخت سے خالی ہے—بس ایک بے روح پرچھائی، جو تمہاری طرف دیکھتی ہے مگر پہچانتی نہیں۔
یہ ایک عجیب اذیت ہے کہ آئینہ تمہارا چہرہ تو لوٹا دے، مگر تمہارا وجود اس میں گم ہو چکا ہو۔ تمہیں وہ لکیریں تو دکھائی دیں جو وقت نے کھینچی ہیں، مگر ان میں تمہاری ذات کا کوئی نشان نہ ہو۔ جیسے کوئی تصویر، جس کے رنگ مٹ چکے ہوں، یا کوئی نام، جو پرانی تحریر سے مٹنے لگا ہو۔
یہ احساس صرف کسی شکستہ لمحے کی پیداوار نہیں، بلکہ یہ ایک مسلسل عمل ہے۔ روزمرہ کی زندگی میں ہم کتنی ہی بار اپنے اندر سے کچھ کھوتے جاتے ہیں، مگر محسوس نہیں کرتے۔ پہلے خواب گم ہوتے ہیں، پھر جذبات، پھر آواز، اور آخر میں خود اپنا وجود۔ ہم دنیا کی توقعات، ذمہ داریوں، اور دوسروں کی خوشنودی میں اتنا جیتے ہیں کہ خود کو کھو دیتے ہیں، اور جب پلٹ کر دیکھتے ہیں، تو جو کچھ باقی ہوتا ہے وہ صرف ایک خالی عکس ہوتا ہے—ایسا عکس جو ہمیں گھورتا ہے، مگر ہماری کہانی نہیں جانتا۔
یہی تو سب سے بڑا کرب ہے—خود کو کھونا، اور پھر خود کو نہ ڈھونڈ پانا۔ ایک ایسے آئینے میں جھانکنا، جہاں تمہارا چہرہ تو ہو، مگر تمہاری روح کہیں اور بھٹک رہی ہو۔ شاید اس کائنات میں سب سے بڑی گمشدگی وہ نہیں، جو کسی راستے میں ہو، بلکہ وہ ہے جو خود اپنی ذات کے اندر ہو۔
کبھی ایسا ہوا ہے کہ تم نے آئینے میں جھانکا ہو اور اپنی ہی آنکھوں میں کھو گئے ہو؟ جیسے پانی کی گہرائی میں ڈوبتے لمحے، جہاں کچھ نظر آتا ہے مگر سب دھندلا ہوتا جاتا ہے۔ جیسے تم اپنے ہی عکس کے روبرو کھڑے ہو، مگر وہ تمہاری شناخت سے خالی ہے—بس ایک بے روح پرچھائی، جو تمہاری طرف دیکھتی ہے مگر پہچانتی نہیں۔
یہ ایک عجیب اذیت ہے کہ آئینہ تمہارا چہرہ تو لوٹا دے، مگر تمہارا وجود اس میں گم ہو چکا ہو۔ تمہیں وہ لکیریں تو دکھائی دیں جو وقت نے کھینچی ہیں، مگر ان میں تمہاری ذات کا کوئی نشان نہ ہو۔ جیسے کوئی تصویر، جس کے رنگ مٹ چکے ہوں، یا کوئی نام، جو پرانی تحریر سے مٹنے لگا ہو۔
یہ احساس صرف کسی شکستہ لمحے کی پیداوار نہیں، بلکہ یہ ایک مسلسل عمل ہے۔ روزمرہ کی زندگی میں ہم کتنی ہی بار اپنے اندر سے کچھ کھوتے جاتے ہیں، مگر محسوس نہیں کرتے۔ پہلے خواب گم ہوتے ہیں، پھر جذبات، پھر آواز، اور آخر میں خود اپنا وجود۔ ہم دنیا کی توقعات، ذمہ داریوں، اور دوسروں کی خوشنودی میں اتنا جیتے ہیں کہ خود کو کھو دیتے ہیں، اور جب پلٹ کر دیکھتے ہیں، تو جو کچھ باقی ہوتا ہے وہ صرف ایک خالی عکس ہوتا ہے—ایسا عکس جو ہمیں گھورتا ہے، مگر ہماری کہانی نہیں جانتا۔
یہی تو سب سے بڑا کرب ہے—خود کو کھونا، اور پھر خود کو نہ ڈھونڈ پانا۔ ایک ایسے آئینے میں جھانکنا، جہاں تمہارا چہرہ تو ہو، مگر تمہاری روح کہیں اور بھٹک رہی ہو۔ شاید اس کائنات میں سب سے بڑی گمشدگی وہ نہیں، جو کسی راستے میں ہو، بلکہ وہ ہے جو خود اپنی ذات کے اندر ہو۔
